پنجاب میں 15 سالہ لڑکا گرفتار، موبائل فون سے مشکوک ڈیٹا برآمد
پنجاب 6/جنوری :(ایجنسیز)پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی جانب سے بھارت میں نابالغ بچوں کو جاسوسی کے لیے استعمال کیے جانے کا سنگین انکشاف سامنے آیا ہے۔ پنجاب کے ضلع پٹھان کوٹ میں پولیس نے ایک 15 سالہ لڑکے کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔پولیس کے مطابق گرفتار نابالغ لڑکا گزشتہ ایک سال سے پاکستان میں موجود آئی ایس آئی کے ہینڈلرز کے ساتھ رابطے میں تھا اور بھارت سے متعلق حساس اور اہم معلومات انہیں فراہم کر رہا تھا۔ ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ لڑکا باقاعدگی سے موبائل فون کے ذریعے معلومات بھیجتا رہا۔تحقیقات کے دوران نابالغ کے موبائل فون سے مشکوک ڈیٹا برآمد کیا گیا ہے، جس کے بعد معاملے کی سنگینی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ گرفتار لڑکا مبینہ طور پر جموں کے ضلع سانبہ کا رہنے والا ہے۔پولیس تفتیش میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی کئی نابالغ بچے اس جاسوسی نیٹ ورک کا حصہ ہیں اور آئی ایس آئی سے رابطے میں رہے ہیں۔ اس نیٹ ورک میں متعدد کم عمر بچے شامل بتائے جا رہے ہیں۔صورت حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پنجاب کے مختلف اضلاع کے پولیس تھانوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ دیگر بچوں کو بروقت حراست میں لیا جا سکے اور حساس بھارتی معلومات کو پاکستان منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔ ایس ایس پی پٹھان کوٹ نے بتایا کہ گرفتار بچے کی عمر صرف 15 سال ہے اور اس سے تفتیش کے دوران اہم معلومات حاصل کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ دیگر اضلاع میں بھی نابالغ بچے اس نیٹ ورک سے جڑے ہوئے ہیں، جن کے خلاف جلد کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔پولیس کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے پیش نظر اس معاملے کی تفتیش کو مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور آئندہ دنوں میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
