سی بی آئی نے چدمبرم ، ان کے بیٹے اور دیگر ملزمین کو تفتیش کے دوران ثبوتوں کو دیکھنے اور فوٹوکاپی حاصل کرنے کی اجازت دی تھی
نئی دہلی : دہلی ہائی کورٹ نے آئی این ایکس میڈیا معاملے میں سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم اور دیگر ملزمان کو تفتیش سے متعلق دستاویزات دکھانے کی اجازت دینے والے خصوصی عدالت کے حکم کو چیلنج دینے والی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی درخواست چہارشنبہ کو خارج کردی۔جسٹس مکتا گپتا نے سی آر پی سی کی مختلف دفعات اورسپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملزمین کو تفتیش سے متعلق دستاویزات دیکھنے اوراس کی فوٹو کاپی حاصل کرنے کا حق ہے ۔ انہیں اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ہائی کورٹ نے سی بی آئی کی درخواست پر سماعت مکمل کرنے کے بعد 27 اگست کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے 5 مارچ کو مسٹر چدمبرم، ان کے بیٹے ایم پی کارتک چدمبرم اور دیگر ملزمان کو تفتیش کے دوران جمع کئے گئے ثبوتوں کودیکھنے اوراس کی فوٹو کاپی حاصل کرنے کی اجازت دی تھی۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی نے خصوصی عدالت کے اس حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔سی بی آئی نے ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران دلیل دیتے ہوئے کہا تھا کہ تحقیقات کے دوران دستاویزات کو ملزمان کو دکھانے سے ثبوتوں میں چھیڑچھاڑ ہوسکتی ہے ۔ سی بی آئی کا کہناتھا کہ بدعنوانی کا یہ ایک بڑامعاملہ ہے ۔ یہ مقدمہ کانگریس حکومت میں سابق مرکزی وزیر خزانہ مسٹر چدمبرم پر اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے آئی این ایکس میڈیا اور آئی این ایکس نیوز پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کو کروڑوں روپے کے نامناسب معاشی فائدہ پہنچانے کے الزامات سے متعلق ہے ۔ اسی معاملے میں مسٹر چدمبرم کے بیٹے کارتک اور دیگر ملزم ہیں۔اس معاملے میں سی بی آئی نے تعزیرات ہند کی دفعہ 120-بی، 420، 468 اور471 کے علاوہ بدعنوانی کی روک تھام ایکٹ 1988 کی مختلف دفعات کے تحت 15 مئی 2017 کو ایف آئی آر درج کرائی تھی۔