چیف سکریٹری سومیش کمار کے تقرر پر بعض عہدیداروں کو اعتراض
حیدرآباد۔ تلنگانہ آئی اے ایس آفیسرس اسوسی ایشن کے بہ اعتبار عہدہ صدر کی حیثیت سے چیف سکریٹری سومیش کمار کے تقرر پر تنازعہ پیدا ہوچکا ہے۔ اسوسی ایشن سے وابستہ عہدیداروں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ چیف سکریٹری تکنیکی طور پر آندھرا پردیش کیڈر سے تعلق رکھتے ہیں۔ بعض عہدیداروں نے کہا کہ آندھرا کیڈر کے باوجود چیف سکریٹری کو صدر کے عہدہ پر فائز کیا جاسکتا ہے کیونکہ دیگر ریاستوں بشمول ہریانہ، مہاراشٹرا، راجستھان، اڈیشہ اور منی پور میں چیف سکریٹری کو اسوسی ایشن کا صدر مقرر کیا گیا۔ آئی اے ایس آفیسرس انسٹی ٹیوٹ کے اعزازی سکریٹری وکاس راج کا کہنا ہے کہ سالانہ جنرل باڈی میٹنگ میں 37 عہدیدار شریک تھے جن میں سے صرف 2 نے چیف سکریٹری کو بہ اعتبار عہدہ صدر بنائے جانے پر اعتراض کیا جبکہ باقی 35 عہدیداروں کی رائے تھی کہ چیف سکریٹری کے فائز کئے جانے سے اسوسی ایشن کے وقار میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں کوئی اور چیف سکریٹری اسوسی ایشن کی قیادت کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریٹائرڈ عہدیدار اسوسی ایشن کا حصہ نہیں ہیں اور ان کی علحدہ اسوسی ایشن ہے۔ 10 ڈسمبر کو منعقدہ سالانہ جنرل باڈی اجلاس میں 1989 بیاچ سے تعلق رکھنے والے سومیش کمار کو نیا صدر مقرر کیا گیا۔ 1985 بیاچ کے سینئر عہدیدار سریش چندا نے بتایا جاتا ہے کہ اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کی طلبی اور صدر کے تقرر کا طریقہ کار اسوسی ایشن کے قواعد کے خلاف ہے۔ ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار آر وی چندرا ودن کا کہنا ہے کہ چیف سکریٹری تمام آئی اے ایس عہدیداروں کیلئے سرپرست کا درجہ رکھتے ہیں لیکن ان کے صدر کی حیثیت سے تقرر کی صورت میں یہ اندیشہ پیدا ہوگا کہ حکومت آئی اے ایس عہدیداروں پر کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔