۔7 دیگر ارکان کا تقرر، مسلم رکن کی روایت سے انحراف
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد کے سی آر حکومت نے آخرکار تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی تشکیل عمل میں لائی ہے ۔ صدرنشین اور 7 ارکان کا تقرر کیا گیا اور ریاستی گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے حکومت کی سفارشات کو منظوری دے دی ہے۔ آئی اے ایس عہدیدار ڈاکٹر بی جناردھن ریڈی کو کمیشن کا صدرنشین مقرر کیا گیا ہے جو حکومت میں پرنسپل سکریٹری محکمہ زراعت کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے علاوہ 7 ارکان کا تقرر کیا گیا ۔ کمیشن کے قیام کے بعد سے شائد یہ پہلا موقع ہے جب حکومت نے کمیشن میں کسی مسلم رکن کا تقرر نہیں کیا ہے ۔ کمیشن کی روایت سے انحراف کرتے ہوئے حکومت نے صدرنشین اور ارکان کے ناموں کو منظوری دے دی ۔ ہر کمیشن میں لازمی طور پر ایک مسلم رکن کو شامل رکھا جاتا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ حکومت بعد میں مسلم رکن کے نام کا علحدہ طور پر اعلان کرے گی۔ چیف منسٹر کی سفارش پر گورنر نے ارکان کی حیثیت سے جن ناموں کو منظوری دی ہے ، ان میں رماوت دھن سنگھ ریٹائرڈ انجنیئرنگ چیف، پروفیسر بی لنگا ریڈی ، پروفیسر اینڈ ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ فزکس عثمانیہ یونیورسٹی ، مس کے ارونا کماری ، اسپیشل گریڈ ڈپٹی کلکٹر مس سمترا آنند تنوبا تلگو پنڈت، کے رویندر ریڈی ریٹائرڈ گورنمنٹ ملازم ، اے چندر شیکھر راؤ آیورویدک ڈاکٹر ، آر ستیہ نارائنا جرنلسٹ شامل ہیں۔ چیف منسٹر نے چیف سکریٹری سومیش کمار کو اس سلسلہ میں احکامات جاری کرنے ہدایت دی ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے کمیشن کی تشکیل کیلئے حکومت کو 4 ہفتوں کا وقت دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر چار ہفتوں میں کمیشن تشکیل نہ دیا جائے تو ہائی کورٹ اپنی جانب سے قدم اٹھائے گا۔ چیف منسٹر کی ہدایت کے بعد چیف سکریٹری سومیش کمار نے کمیشن کی تشکیل کا جی او ایم ایس 108 جاری کردیا ۔ جی او کے مطابق صدرنشین اور ارکان کی میعاد 6 سال رہے گی یا پھر 62 سال کی عمر تک کمیشن میں برقرار رہ سکیں گے۔