آئی اے ایس عہدیدار کا ریاستی وزیر کے پیر چھونا دستور کی توہین

   

گنٹور کے جناح ٹاور پر تنازعہ غیرضروری،قومی سکریٹری سی پی آئی نارائنا کا ردِعمل

حیدرآباد۔/2جنوری، ( سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر نارائنا نے آندھرا پردیش میں آئی اے ایس عہدیدار کی جانب سے ریاستی وزیر بی ستیہ نارائنا کے پیر چھونے پر برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وجیا نگرم ضلع میں کل جوائنٹ کلکٹر جو آئی اے ایس عہدیدار ہیں برسر عام ریاستی وزیر کے پیر پکڑ لئے۔ یہ واقعہ نہ صرف آل انڈیا سرویس بلکہ دستور کی توہین کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیدار وظیفہ پر سبکدوشی تک ملک کی خدمت کے عہد کے پابند ہیں وہ کسی بھی سیاسی جماعت کے آلہ کار نہیں بن سکتے لیکن جوائنٹ کلکٹر وجیا نگرم نے وزیر کے پیر پکڑ کر دستور کی توہین کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کا اقتدار مستقل نہیں ہوتا اور آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں کو سیاسی جماعتوں کے آلہ کار بنتے ہوئے سیول سرویس نظام کی توہین کرنے سے گریز کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ پروموشن کیلئے اس طرح کی سرگرمیاں افسوسناک ہیں۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ حال ہی میں بعض دوسرے آئی اے ایس عہدیداروں نے بھی حکومت میں شامل افراد کے پیر چھوئے تھے۔ تلنگانہ میں دو کلکٹرس نے چیف منسٹر کے سی آر کے پیر چھوتے ہوئے سیول سرویس سسٹم کو داغدار کیا ہے۔ ایسے عہدیداروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے۔ ڈاکٹر نارائنا نے گنٹور کے جناح ٹاور پر بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین ترقی کے بجائے فرقہ وارانہ حساس مسائل کو ہوا دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جناح ٹاور پر غیر ضروری تنازعہ کھڑا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جناح ٹاور کے انہدام کا مطالبہ کرنے والی بی جے پی کیا برٹش دور حکومت میں تعمیر کردہ ریلوے بریجس، سرکاری دواخانوں کی عمارتوں اور نظام حیدرآباد کی تعمیر کردہ عمارتوں کو بھی منہدم کردے گی؟۔ انہوں نے کہا کہ عوامی جذبات کو مشتعل کرتے ہوئے بی جے پی تلگو ریاستوں میں اپنا موقف مستحکم کرنا چاہتی ہے جو ممکن نہیں ہے۔ ر