آئی ٹی، حیدرآباد میں ریئل اسٹیٹ ترقی کیلئے اہم سبب

   

حیدرآباد ۔ 22 فبروری (سیاست نیوز) حیدرآباد ملک کے دیگر کمرشیل ریئل اسٹیٹ ہبس سے آگے ہے اور اس کے فنڈنٹلس اس میں معاون ہیں۔ اس مارکٹ میں مانگ، سپلائی اور قیمتوں کا ایک صحتمند رجحان دیکھا جارہا ہے۔ اس شہر میں ریئل اسٹیٹ شعبہ میں ہورہی متواتر ترقی جاری رہنے کا رجحان ہے۔ اس شعبہ میں اس طرح کی ترقی کیلئے آئی ٹی شعبہ ایک اہم سبب سمجھا جاتا ہے۔ نائٹ فرینک کی اسٹڈیز میں کہا گیا کہ حیدرآباد رئیل اسٹیٹ کیلئے انفلیکشن پوائنٹ تھا 2014 اور اس کے بعد سے اس میں مثبت تبدیلیاں آنا شروع ہوئے جبکہ نئی حکومت برسراقتدار آئی۔ جب اس شہر میں برقی اور پانی کے مسائل کو حل کیا گیا اور ان اندیشوں کو دور کیا گیا کہ یہ بے چینی کا شہر نہیں ہے تو یہاں آئی ٹی کمپنیوں کا اضافہ ہوا اور ورک فورس بڑھا۔ ریئلٹی ڈیولپرس جو اس وقت تک رہائشی ڈیولپمنٹ پر توجہ دے رہے تھے آئی ٹی شعبہ میں افس اسپیس کی مانگ کو ملحوظ رکھتے ہوئے آفس اسپیس فراہم کرنا شروع کیا۔ گذشتہ تین سال میں حیدرآباد میں آفس ٹیک اپ میں مسلسل اضافہ ہوا اور تمام ریکارڈس ٹوٹ گئے۔ رہائشی جگہ کی مانگ کے بارے میں سیمسن آرتھر، برانچ ڈائرکٹر حیدرآباد، نائٹ فرینک انڈیا نے کہا کہ 2019ء کے اوائل میں ریگولیٹری وجوہات کے باعث ڈیولپرس نے پراجکٹ لانچس جاری نہیں کئے۔ اس لئے اس کی مانگ میں اضافہ ہوتا رہا۔ جب لانچس ہوئے تو کسٹمرس تیزی سے خریداری شروع کی اس سے ڈیولپرس کی حوصلہ افزائی ہوئی اور اس طرح قیمت میں اضافہ ہوا۔ حیدرآباد گھر کی قیمت میں اضافہ کے معاملہ میں 150 گلوبل شہروں میں ٹاپ 20 میں ہندوستان کا واحد شہر بن گیا۔ آئی ٹی شعبہ میں ترقی کی وجہ شہر میں رہائشی جگہ کی مانگ میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اچھا انفراسٹرکچر، میٹرو پولیٹن کلچر، بزنس کیلئے حکومت کے معاون اقدامات، سوشل انفراسٹرکچر، کم خرچ طرز زندگی اور میڈیکل، ایجوکیشن اور انٹرٹینمنٹ ہبس کا وجود میں آنا ایسی چیزیں ہیں جس کی وجہ سے لوگ حیدرآباد کی طرف دیکھ رہے ہیں چونکہ مارکٹ میں سپلائی کا اضافہ ہورہا ہے۔ آنے والے کوارٹرس میں گھر کی قیمتوں میں 4 تا 5 فیصد کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ تاہم حیدرآباد میں گھر خریدنے والوں کیلئے خریدنا گنجائش میں ہوگا۔