مرکز سے کوئی نمائندگی نہیں کی گئی، کانگریس ارکان اسمبلی کا الزام
حیدرآباد۔21۔ ستمبر (سیاست نیوز) کانگریس لیجسلیچر پارٹی نے کہا کہ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے پارلیمنٹ میں وضاحت کی کہ تلنگانہ حکومت نے آئی ٹی آئی آر پراجکٹ کیلئے ابھی تک مرکز سے نمائندگی نہیں کی ہے۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا نے اسمبلی کے میڈیا پوائنٹ پر کہا کہ آئی ٹی آئی آر پراجکٹ کے مسئلہ پر تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ کے بارے میں حقائق عوام کو بتائے بغیر ریاستی حکومت گمراہ کر رہی ہے ۔ اس پراجکٹ سے تقریباً 70 لاکھ افراد کو فائدہ ہوسکتا ہے ۔ بھٹی وکرمارکا اور ارکان اسمبلی ڈی سریدھر بابو اور سیتکا نے کہا کہ آئی ٹی آر پراجکٹ تلنگانہ کا حق ہے اور افس کی منظوری کیلئے مرکز پر دباؤ بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کی ویب سائیٹ پر پراجکٹ سے 68 لاکھ افراد کو فائدہ کی بات کہی گئی ہے۔ سریدھر بابو نے کہا کہ پراجکٹ کے حصول میں تلنگانہ حکومت ناکام ہوچکی ہے ۔ اسپیکر پوچام سرینواس ریڈی نے اسمبلی میں اس مسئلہ میں مباحث کی اجازت نہیں دی۔ مباحث کی صورت میں حکومت کا موقف منظر عام پر آسکتا تھا ۔ اس سلسلہ میں حکومت عوام کو حقائق سے بے خبر رکھنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ کے حصول تک کانگریس اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ سیتکا نے کہا کہ سابق حکومتوں نے حیدرآباد کی ترقی میںم اہم رول ادا کیا تھا لیکن موجودہ حکومت کے وزراء یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے کہ ماضی میں کوئی ترقی نہیں ہوئی ہے۔
حکومت کا یہ دعویٰ مضحکہ خیز ہے۔