نئی دہلی ۔ 6 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے کہا ہیکہ انکم ٹیکس ریٹرنس کے ادخال کیلئے پیان کارڈ کو آدھار کے ساتھ مربوط کرنا لازمی نہیں ہے۔ جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس ایس عبدالنظیر کی بنچ نے کہا کہ اعلیٰ عدالت پہلے ہی اس معاملہ کا فیصلہ کرچکی ہے اور انکم ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 139AA کو حق بجانب قرار دے چکی ہے۔ عدالت کی ہدایت مرکز کی جانب سے دہلی ہائیکورٹ کے ایک حکمنامہ کے خلاف داخل کردہ اپیل پر جاری کی گئی ہے۔ ہائیکورٹ نے دو اشخاص شریاسین اور جئے شری ستپوتے کو اپنے آدھار اور پیان نمبرس کو مربوط کئے بغیر انکم ٹیکس ریٹرنس برائے 2018-19ء داخل کرنے کی اجازت دی ہے۔ بنچ نے کہا کہ مذکورہ حکمنامہ ہائیکورٹ میں فاضل عدالت میں زیرغور معاملہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے جاری کیا ہے۔ اس کے بعد فاضل عدالت نے اس معاملہ کا فیصلہ سنیا اور انکم ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 139AA کو برقرار رکھا۔ اس تناظر میں پیان کارڈ کو آدھار کے ساتھ مربوط کرنا لازمی نہیں ہے۔ فاضل عدالت نے نوٹ کیا کہ تخمینی سال 2018-19ء کے ضمن میں یہ بتایا گیا ہیکہ دو درخواست گذاروں نے ہائیکورٹ کے احکام کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرنس داخل کئے اور تخمینہ مکمل کرلیا گیا۔
مرکز کی نوٹس ابھی نہیں ملی ، ممتابنرجی کا بیان
کولکاتہ ۔ 6 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی نے آج کہاکہ ریاستی حکومت کو کولکاتہ پولیس کمشنر راجیو کمار کے خلاف سرویس کے قواعد کی مبینہ خلاف ورزی کی پاداش میں تادیبی کارروائی کرنے کیلئے مرکزی وزارت امور داخلہ سے ہنوز کوئی نوٹس وصول نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے یہاں سکریٹریٹ میں میڈیا کو بتایا کہ نوٹس ملنے پر چیف سکریٹری یا ہوم سکریٹری اس کا جواب دیں گے۔ راجیو کمار پر الزام ہیکہ انہوں نے مرکزی فورس سے تعاون نہ کرتے ہوئے سرویس کے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔