چھوٹی اور متوسط کمپنیاں حیدرآباد کے غیرمغربی حصوں میں منتقلی کیلئے آمادہ
حیدرآباد : حکومت تلنگانہ کی گروتھ ان ڈسپرشن (GRID) پالیسی کے حصہ کے طور پر 300 سے زیادہ چھوٹی اور متوسط آئی ٹی فرمس ان کے یونٹس کو شہر حیدرآباد کے غیرمغربی مقامات پر مجوزہ آئی ٹی پارکس میں منتقل کرنے میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ ان میں زیادہ تر یونٹس حیدرآباد کے مختلف مقامات پر پہلے ہی سے چل رہے ہیں اور وہ الگ الگ مقامات پر آئی ٹی انڈسٹری کو ترقی دینے کے سلسلہ میں حکومت کی کاوشوں میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس میں سنجیدہ ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہیکہ زیادہ تر کمپنیاں کوویڈ۔19 وباء کے بعد ان کے یونٹس کو کسی اور جگہ منتقل کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں اور حکومت کی ترغیبات سے استفادہ کرنے اور مصارف کم کرنے پر بھی توجہ دے رہی ہیں۔ تلنگانہ اسٹیٹ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ ’’اپل‘‘ کوم پلی جیسے مقامات اور شہر کے دیگر مقامات پر تقریباً 200 چھوٹی اور متوسط آئی ٹی فرمس چل رہی ہیں جو ان کے آپریشنس کو وسعت دینے کے لئے حکومت کی مدد طلب کررہے ہیں۔ نیز مادھا پور۔ گچی باؤلی کاریڈر میں اس طرح کی مزید 100 تا 150 کمپنیاں ہیں جو حکومت کی ترغیبات سے استفادہ کرنے کے لئے شہر کے غیرمغربی حصوں میں منتقلی کی خواہاں ہیں۔ اس کے علاوہ نئی آئی ٹی کمپنیاں بھی ان کے یونٹس قائم کرنے کیلئے جگہ طلب کررہے ہیں‘‘۔ ریاستی حکومت نے شہر میں آئی ٹی پارکس کے قیام کے لئے 11 موجودہ صنعتی علاقوں کے بشمول 13 مقامات کی نشاندہی کی ہے۔ اس کے GRID پالیسی کے تحت ریاستی حکومت شہر حیدرآباد کے غیرمغربی حصوں میں قائم کی جانے والی صنعتی یونٹس کے لئے اضافی ترغیبات کی پیشکش کررہی ہے۔ نیز ریاستی حکومت ان کمپنیوں کی جانب سے برانڈنگ اور پروموشنل سرگرمیوں میں بھی شامل ہوگی۔ تلنگانہ اسٹیٹ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ’’آئی ٹی کمپنیوں بالخصوص آئی ٹی پارک ڈیولپرس کیلئے بڑی کشش یہ ہیکہ موجودہ صنعتی علاقوں میں زمین رکھنے والے ان کی زمین کے 50 فیصد حصہ کو آئی ٹی پارک کیلئے تبدیل کرسکتے ہیں اور مابقی 50 فیصد کو نان ۔ آئی ٹی مقاصد کے لئے استعمال کرسکتے ہیں بشمول کمرشیل ڈیولپمنٹ کیلئے GRID پالیسی کے تحت ریاستی حکومت نے کوکٹ پلی، گاندھی نگر، بالانگر، اپل، ملاپور، مولا علی اور صنعت نگر کے انڈسٹریل پارکس کے علاوہ رامچندراپورم اینسیلری انڈسٹریل اسٹیٹ، ناچارم، کاٹے دھن انڈسٹریل ایریا کو اس طرح کی تبدیلی کرنے کی اجازت دی ہے اور پٹن چیرو انڈسٹریل ڈیولپمنٹ ایریا کو بھی جزوی تبدیلی کی اجازت دی۔ کوم پلی میں آئی ٹی ٹاور کے علاوہ کلور اور عثمان ساگر کے قریب میں ایک اور آئی ٹی پارک کی تجویز ہے۔ حکومت نے پہلے ہی اپل اور اس کے اطراف میں پانچ انڈسٹریل پارکس کو آئی ٹی پارکس میں تبدیل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
