آئی ٹی پراجکٹ پر ٹی آر ایس اور بی جے پی کی الزام تراشی مضحکہ خیز

   


کانگریس نے پراجکٹ منظور کیا تھا، کے سی آر نے دلچسپی نہیں لی: محمد علی شبیر
حیدرآباد: کانگریس پارٹی نے تلنگانہ میں انفارمیشن ٹکنالوجی انویسٹمنٹ ریجن (ITIR) کے مسئلہ پر ٹی آر ایس اور بی جے پی کے ایک دوسرے پر الزام تراشی کو مضحکہ خیز قرار دیا ۔ سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے کہا کہ آئی ٹی پراجکٹ کے مسئلہ پر دونوں پارٹیاں ایک دوسے کو ذمہ دار قرار دے رہی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 7 برسں میں دونوں حکومتوں نے پراجکٹ کے قیام پر کوئی توجہ نہیں دی۔ سابق یو پی اے حکومت نے ستمبر 2013 ء میں تلنگانہ کیلئے پراجکٹ کو منظوری دی تھی جس کے تحت 53 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کئے جاسکتے تھے۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی نے 2014 ء سے پراجکٹ کے قیام میں کوئی دلچسپی نہیں لی اور اب گریجویٹ رائے دہندوں کو گمراہ کرنے کیلئے پراجکٹ کی منسوخی کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ آئی ٹی آئی آر پراجکٹ حیدرآباد کے اطراف 202 کیلو میٹر پر محیط تھا جس میں 2.19 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کا نشانہ مقرر کیا گیا تھا ۔ 25 برسوں میں پراجکٹ پر عمل آوری کے ذریعہ لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کی گنجائش تھی ۔ 2018 ء میں پہلا مرحلہ مکمل ہوا لیکن مرکز کی بی جے پی حکومت نے درکار فنڈس جاری نہیں کئے اور بلآخر پراجکٹ کو منسوخ کردیا ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے فنڈس کے لئے مرکز سے ایک مرتبہ بھی نمائندگی نہیں کی ۔ وزیراعظم سے کے سی آر کی بارہا ملاقاتیں رہیں لیکن اس پراجکٹ کے بارے میں کچھ نہیں کہا ۔ محمد علی شبیر نے قائد اپوزیشن کی حیثیت سے قانون ساز کونسل میں چیف منسٹر اور وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کی توجہ مبذول کرائی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت صرف ایسے پراجکٹس پر توجہ دے رہی ہے جہاں سے بڑے پیمانہ پر کمیشن اور رشوت حاصل ہو۔ انہوں نے چیف منسٹر کو چیلنج کیا کہ وہ پراجکٹ کے بارے میں فنڈس کے حصول کی مرکز سے نمائندگی کا ثبوت پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ کونسل انتخابی مہم میں بی جے پی اور ٹی آر ایس ایک دوسرے کی ناکامیوں کو اجاگر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے معاملہ میں کانگریس وسیع تر ویژن رکھتی ہیں اور کانگریس دور حکومت میں کئی پراجکٹس کی تکمیل کی گئی جن میں راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ آؤٹر رنگ روڈ ، میٹرو ریل ، نرسمہا راؤ ایکسپریس وے اور دیگر شامل ہیں۔ انہوں نے رائے دہندوں سے اپیل کی کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے وعدوں سے گمراہ ہوئے بغیر کانگریس امیدواروں کو کامیاب بنائیں۔