دفاتر میں کم سے کم تعداد کو یقینی بنانے ریاستوں کو مرکزی حکومت کی ہدایات
حیدرآباد۔28 ڈسمبر(سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے ملک کی تمام ریاستوں کو روانہ کئے گئے مکتوب میں ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ جہاں تک ممکن ہوسکے انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیوں میں گھر سے کام کاج کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں۔ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کئے جانے والے رہنمایانہ خطوط میں کہا گیا ہے کہ تمام ریاستوں میں گھرسے کام کاج کی سہولت کوجب تک ممکن ہوسکے برقرار رکھنے کے اقدامات کئے جائیں تاکہ دفتر پہنچ کر کام کرنے کی صورت میں پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پایا جاسکے۔ ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں کمی ریکارڈ کئے جانے کے دوران بیشتر ریاستی حکومتوں کی جانب سے انفارمیشن کمپنیوں کو دفتر سے کام کاج شروع کرنے کی خواہش کرتے ہوئے حالات کو معمول پر لانے کے اقدامات پر زور دینا شروع کردیا تھا اور تلنگانہ میں بھی حکومت کے محکمہ انفارمیشن اینڈ ٹکنالوجی کی جانب سے ریاست میں خدمات انجام دینے والی کمپنیوں میں کام کاج کے آغاز پر زور دیا جارہا تھا لیکن اب جبکہ ملک بھر میں اومی کرون کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور اب تک کورونا وائرس کی یہ نئی قسم 21 ریاستوں میں پھیل چکی ہے تو ایسی صورت میں مرکزی حکومت کی وزارت داخلہ نے ریاستوں کے چیف سیکریٹریزکو مکتوب روانہ کرتے ہوئے انہیں مشورہ دیا کہ گھر سے کام کاج کے کلچر کو ختم نہ کیا جائے بلکہ کمپنیوں کی جانب سے گھرسے کام کاج کے فیصلہ کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔ملک بھر میں کوروناوائرس کی نئی قسم اومی کرون کے متاثرین کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے جاری کئے جانے والے ان رہنمایانہ خطوط کے بعد کہا جا رہاہے کہ ریاستوں میں حکومت کی جانب سے کمپنیوں کو اس بات کا اختیار دیا جائے گا کہ وہ اپنے طور پر اس بات کا فیصلہ کریں کہ انہیں کس طرح سے کام کاج جاری رکھنا ہے۔ریاستی حکومتوں کا کہنا ہے کہ انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے گھر سے کام کاج کے کلچر کو فروغ دیئے جانے کی صورت میں ریاستی حکومت کی آمدنی متاثر ہورہی ہے جس میں برقی کی تجارتی کھپت میں کمی کے علاوہ آئی ٹی ملازمین کی آمد ورفت میں ریکارڈ کی جانے والی کمی کے سبب تیل کی فروخت میں ریکاڈر کی جانے والی گراوٹ شامل ہیں۔م