آئی پیک دھاوا تنازعہ: مغربی بنگال حکومت کی سپریم کورٹ میں کیویٹ

,

   

Ferty9 Clinic

کسی بھی حکم سے قبل موقف سننے کی درخواست‘ ای ڈی کی بھی عدالت عظمی میں درخواست داخل

نئی دہلی۔10؍جنوری ( ایجنسیز ) انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور مغربی بنگال حکومت کے درمیان جاری کھینچا تانی کے دوران ہفتہ کو ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں کیویٹ درخواست داخل کر دی۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ آئی پیک سے جڑے معاملے میں اگر کوئی بھی درخواست یا اپیل دائر کی جائے تو عدالت مغربی بنگال حکومت کا موقف سنے بغیر کوئی یکطرفہ حکم صادر نہ کرے۔ریاستی حکومت کی جانب سے داخل کی گئی کیویٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں کسی بھی فریق کو یکطرفہ فائدہ پہنچانے والا حکم مناسب نہیں ہوگا اور تمام متعلقہ فریقین کو سننا ناگزیر ہے۔ دوسری طرف چیف منسٹر ممتا بنرجی کے تعاون سے مغربی بنگال کے سرکاری عہدیداروں نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے عہدیداروں کو کوئلہ اسمگلنگ کے مبینہ گھوٹالے کی ای ڈی کی تحقیقات سے منسلک مواد کو ضبط کرنے سے روک دیا کا الزام عائد کرتے ہوئے مرکزی ایجنسی نے بھی آج سپریم کورٹ کو ایک درخواست داخل کی ہے۔ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت کو اندیشہ تھا کہ ای ڈی عدالت عظمیٰ میں فوری راحت حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے اسی لیے پیشگی طور پر کیویٹ داخل کی گئی۔دوسری جانب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بھی اس پورے معاملے میں اپنی قانونی حکمت عملی پر غور و خوض کے بعد سپریم کورٹ میں درخواست داخل کردی ہے۔اس سے قبل انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے جمعہ کو ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا۔ ای ڈی نے عدالت کو بتایا تھا کہ اس کی جاری جانچ میں دانستہ طور پر رکاوٹیں پیدا کی گئیں جس سے تفتیش متاثر ہوئی۔ ای ڈی کی جانب سے دائر درخواست میں اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کرانے کی مانگ بھی کی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ایجنسی نے عدالت سے اس سلسلے میں مقدمہ درج کرنے کی اجازت بھی طلب کی۔ای ڈی نے عدالت کو یہ بھی آگاہ کیا کہ جمعرات کو ہونے والی جانچ کے دوران مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی مبینہ طور پر چند اہم دستاویزات اور معلومات اپنے ساتھ لے گئیں۔ قابل ذکر ہے کہ جمعرات کو آئی پیک کے دفتر اور اس کے شریک بانی پرتیک جین کی رہائش گاہ پر ای ڈی کی کارروائی کے دوران وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ریاستی انتظامیہ اور پولیس کے سینئر افسران کے ہمراہ پہلے پرتیک جین کے گھر اور بعد ازاں آئی پیک کے دفتر پہنچی تھیں۔ اس دوران ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے شکچھ فائلیں اور الیکٹرانک دستاویزات نکلوا کر اپنی گاڑی میں رکھوائیں۔