ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں کو تباہ کردینے کی دھمکی، جارحانہ بیان بازی سے کشیدگی میں اضافہ
واشنگٹن: 22 مارچ ( ایجنسیز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران نے اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہ کھولا تو امریکہ ایرانی بجلی گھروں کو صفحہ ہستی سے ’مٹا دے گا‘۔عرب نیوز کے مطابق امریکہ کی اس اس دھمکی کے جواب میں ایرانی فوج نے فوری طور پر جوابی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ پورے خطے میں امریکی توانائی، آئی ٹی اور ڈی سیلینیشن (پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے) انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا۔‘یہ جارحانہ بیان بازی ایک خطرناک اور تشویش ناک نئی کشیدگی کی علامت ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں مزید امریکی افواج کی آمد، ڈونلڈ ٹرمپ کے فوجی کارروائیاں روکنے کے اشاریٹرمپ نے یہ الٹی میٹم فلوریڈا میں اپنے گھر سے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے جاری کیا جہاں وہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اندرونی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ ’ایران اگر اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ نہیں کھولتا جو جاری تنازعہ کے باعث عملاً بند ہو چکی ہے تو امریکہ ایران کے ’مختلف بجلی گھروں کو تباہ کر دے گا، اور آغاز سب سے بڑے بجلی گھر سے ہوگا۔‘ایران کی فوجی آپریشنل کمان خاتم الانبیا نے صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب دیا ہے۔فارس نیوز ایجنسی کے مطابق جاری بیان میں کہا گیا کہ ’پہلے دی گئی دھمکیوں کے بعد دشمن اگر ایران کے ایندھن اور توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بناتا ہے تو خطے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی تمام توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈی سیلینیشن تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔‘یہ سخت اور جارحانہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب ہفتے کی رات ایران کے میزائلوں نے جنوبی اسرائیل کی دو آبادیوں کو نشانہ بنایا جن میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ یہ حملے اسرائیل کے مرکزی جوہری تحقیقی مرکز کے قریب ہوئے جو اس بات کا اشارہ ہیں کہ تنازع ایک نہایت خطرناک رْخ اختیار کر رہا ہے۔اسرائیل میں ایرانی حملے اس وقت ہوئے جب اسی روز تہران کے مرکزی جوہری افزودگی مرکز نطنز جوہری تنصیب پر حملہ کیا گیا تھا۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ’وہ جنوبی شہروں ڈیمونا اور اراد پر گرنے والے میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہی۔‘ڈیمونا اسرائیل کے کم آبادی والے نیگیو صحرا میں واقع ایک اہم مرکز کے قریب سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ایرانی میزائل اس علاقے میں اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام کو عبور کرنے میں کامیاب ہوئے۔ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر ) پر کہا ہے کہ ’اسرائیلی حکومت اگر سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود ڈیمونا جیسے علاقے میں میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے، تو یہ عملی طور پر جنگ کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کی علامت ہے۔‘