جے شنکر اور ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کی فون پر بات چیت کے بعد فیصلہ
نئی دہلی ۔12؍مارچ س۰ ایجنسیز )ایران اور امریکہ۔ اسرائیل جنگ کے سبب ہندوستان میں تیل کے بڑھتے بحران کے درمیان اچھی خبرآئی ہے۔ ایران نے 2 ہندوستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ بحری جہاز چہارشنبہ کی رات اور جمعرات صبح کے درمیان گزر ے ہیں۔ ہندوستان میں تیل کی بڑھتی ہوئی قلت کے درمیان یہ بڑی راحت کہی جارہی ہے کیونکہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے زیادہ تر بحری جہاز وہاں پھنسے ہوئے ہیں اور آمدو رفت عملی طور پر بند ہو گئی ہے۔ ان دونوں جہازوں کے نکلنے سے ہندوستان میں تیل کی قلت کسی حد تک دور ہو جائے گی۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی کے درمیان چہارشنبہ کو ٹیلی فونک بات چیت ہوئی تھی جس کے بعد تازہ پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ہند۔ ایران بات چیت کے بعد کم از کم 2 ہندوستانی ٹینکر( پشپک اور پرمل) محفوظ طور سے آبنائے ہرمز سے گزررہے ہیں۔ یہی وہ سمندری راستہ ہے جہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے کئی بین الاقوامی جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے۔ یہ اجازت ہندوستان کیلئے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس وقت اس علاقے سے گزرنے والے امریکہ، یورپ اور اسرائیل کے بحری جہازوں کو پابندیوں اور حملوں کے سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے دو ہندوستانی بحری جہازوں (ہندوستانی جھنڈے والے) کو گزرنے کی اجازت دی۔ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول ہے۔ آئی آر جی سی کے کمانڈر ریئر ایڈمرل علی رضا تنگسیری نے کہا کہ کوئی بھی جہاز جو آبنائے ہرمز سے گزرنا چاہتا ہے اسے ایران سے اجازت لینا ہوگی ورنہ حملے کا سامنا کرنا پڑے گا۔واضح رہے کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک ہے اور اس کا زیادہ تر خام تیل مشرق وسطیٰ سے آتا ہے جو آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔