آبنائے ہرمز میں فوجی کارروائی ایک پیچیدہ معاملہ : امریکی جنرل

   

واشنگٹن ۔ 14 مارچ (ایجنسیز) امریکی چئیرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈان مکین نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز فوجی لحاظ سے ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ جمعہ کے روز امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں امریکی جنرل کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر جہازوں کو وہاں سے گزارنے سے پہلے ہمیں اپنے موجودہ فوجی اہداف کے مطابق ضروری تیاری کرنا ہو گی۔ ایران اس آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ آبی راستہ اپنے سب سے تنگ مقام پر تقریباً 33 کلومیٹر چوڑا ہے اور دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ جمعرات کو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک بیان میں اس آبنائے کو دباؤ کے طور پر بند کرنے کی بات کی گئی تھی۔ اس سوال پر کہ کیا صدر ٹرمپ کی حکومت نے ایران کے اس ممکنہ اقدام کے لیے مناسب منصوبہ بندی کی ہے، وزیر دفاع ہیگسیتھ نے کہا کہ ہاں، تاہم انہوں نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مقاصد کو حاصل کرنے اور انہیں کیسے حاصل کرنا ہے اس پر تیزی سے پیش رفت کر رہے ہیں۔ اس سے ایک دن قبل امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا تھا کہ امریکی فوج اس وقت تیل بردار جہازوں کو تحفظ دینے کیلئے تیار نہیں ہے کیونکہ تمام فوجی وسائل ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنے پر مرکوز ہیں۔ بنائے میں بارودی سرنگیں بچھائے جانے کے امکان کے بارے میں سوال پر ہیگسیتھ نے کہا کہ ہم نے ایسی باتیں سنی ہیں لیکن اس کے واضح شواہد موجود نہیں ہیں۔ ایران کے حملوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہے کیونکہ جنگ کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔