آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کی ڈیڈ لائن آج ختم ہوگی

,

   

ایران نے مہلت مسترد کردی ‘ جنگ کا 37واں دن‘ کشیدگی میں زبردست اضافہ

تہران؍واشنگٹن؍تل ابیب۔5؍اپریل( ایجنسیز) مریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر، 6 اپریل 2026، شام 8 بجے کی آخری تاریخ یعنی آبنائے ہرمز کو کھولنے کیلئے ڈیڈلائن مقرر کی ہے۔ ایران کے لیے مشرقی وقت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے یا اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ حملوں سمیت سنگین نتائج کا سامنا کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کے 37 ویں روز صورتحال مزید پیچیدہ اور کشیدہ ہوگئی ہے جبکہ مختلف محاذوں پر اہم پیش رفت سا منے آئی ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران میں مار گرائے گئے ایف-15 ای جنگی طیارے کے لاپتہ عملے کے ایک رکن کو ایک خطرناک ریسکیو آپریشن کے دوران بازیاب کر لیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی میں شدید جھڑپیں ہوئیں اور خصوصی فورسز نے حصہ لیا۔دوسری جانب ایران نے امریکی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے دی گئی 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر سنجیدہ اور غیر متوازن قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے جہاں سے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ایرانی حکام کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مہشہر پیٹروکیمیکل زون میں 5 افراد جاں بحق اور 170 زخمی ہوئے ہیں جبکہ جنگ کے آغاز سے اب تک 30 سے زائد جامعات کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اصفہان کے علاقے میں ایک امریکی ریپر ڈرون کو مار گرایا ہے جو لاپتہ امریکی اہلکار کی تلاش میں مصروف تھا تاہم امریکہ کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ کویت میں ایرانی ڈرون حملوں کے باعث بجلی اور پانی کے دو بڑے پلانٹس متاثر ہوئے جبکہ بحرین اور متحدہ عرب امارات میں بھی حملوں کے بعد ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی اور بعض صنعتی تنصیبات کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ایسے حملے خطے کو ایٹمی آلودگی کے خطرے سے دوچار کر سکتے ہیں۔ادھر اسرائیل میں بھی خطرے کی گھنٹیاں بجتی رہیں، جہاں ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے میزائل حملے جاری ہیں۔ تل ابیب اور دیگر علاقوں میں حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ۔خطے میں جاری اس جنگ کے باعث عالمی توانائی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں جبکہ اوپیک ممالک آئندہ پیداوار کے حوالے سے اہم اجلاس کرنے جا رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا خدشہ ہے اور اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو اس کے عالمی معیشت اور امن پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔