آندھراپردیش کے حق میں معاہدہ کرنے کا الزام، اسمبلی میں اپوزیشن کا جواب دیا جائے گا
حیدرآباد ۔ یکم جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس دورحکومت کے معاہدات کے سبب تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ پرجا بھون میں پاور پوائنٹ پریزینٹیشن سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ پانی کی تقسیم میں تلنگانہ کا حق محفوظ کرنے کیلئے علحدہ تلنگانہ کی جدوجہد کی گئی لیکن گزشتہ دس برسوں میں پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کرشنا اور گوداوری کے پانی کی تقسیم کے معاملہ میں اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر بے بنیاد الزام تراشی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹس کے بارے میں غلط پروپگنڈہ کرتے ہوئے بی آر ایس عوام کو گمراہ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مقصد براری بی آر ایس کا بنیادی مقصد ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران آبی تقسیم کے بارے میں ناانصافی کا انہوں نے گہرائی سے جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھراپردیش میں 811 ٹی ایم سی پانی الاٹ کیا گیا جس میں تلنگانہ کی حصہ داری 299 ٹی ایم سی اور آندھراپردیش کے لئے 512 ٹی ایم سی مختص کیا گیا۔ علحدہ ریاست کے قیام کے بعد کے سی آر حکومت نے 299 ٹی ایم سی کے حق میں معاہدہ کیا اور 66 فیصد آبی حصہ داری آندھراپردیش کے حوالے کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ معاہدات پر کے سی آر اور ہریش راؤ کی دستخط تلنگانہ کیلئے پروانۂ موت ثابت ہوئی ہے۔ کے سی آر اور ہریش راؤ نے تلنگانہ کے آبی مفادات پر سمجھوتہ کرلیا ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ تلنگانہ کو مناسب حصہ داری کیلئے آندھراپردیش حکومت پر دباؤ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناانصافی پر کانگریس حکومت خاموش نہیں رہے گی۔ آندھراپردیش کے پراجکٹس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس قائدین نے کنٹراکٹر سے کمیشن حاصل کرنے کیلئے کئی پراجکٹس کا تخمینہ بڑھادیا تھا۔ چیف منسٹر نے وزراء اور ارکان اسمبلی کو مشورہ دیا کہ وہ اسمبلی میں مباحث کے دوران اپوزیشن کے الزامات کا منہ توڑ جواب دیں۔1
