امریکہ پہلے دور کی مصالحت انجام دے گا ۔ اسرائیل کو مستقبل قریب میں راست مذاکرات کا یقین
بیروت ۔ لبنان اور اسرائیل نے باہمی دیرینہ بحری سرحد تنازعہ پر بالواسطہ امریکی مصالحت والے مذاکرات سے اتفاق کرلیا ہے ۔ فیرقین نے یہ بات بتائی ۔ یہ بات چیت اقوام متحدہ امن فوج کے ہیڈ کوارٹرس جنوبی لبنان میں ہوگی اور مذاکرات اقوام متحدہ کے بیانر تلے ہونگے ۔ امکان ہے کہ اس بات چیت کا 14 اکٹوبر کو آغاز ہوگا ۔ امریکی اسسٹنٹ سکریٹری آف اسٹیٹ برائے مشرقی امور ڈیوڈ شینکر نے یہ بات بتائی ۔ ڈیوڈ شینکر مشرق وسطی کیلئے امریکہ کے اعلی سفارتکار ہیں۔ امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا کہ اس معاہدہ سے دونوں ملکوں کو مذاکرات کے آغاز کا موقع ملے گا ۔ امکان ہے کہ ان مذاکرات سے وسیع تر استحکام ‘ سلامتی اور خوشحالی کا ماحول لبنانی اور اسرائیلی شہریوں کیلئے مساوی سطح پر پیدا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات کیلئے جو اتفاق رائے ہوا ہے وہ امریکی عہدیداروں کی تین سالہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔ ایک اسرائیلی عہدیدار نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے مابین اس تعلق سے معاہدہ تقریبا ہوچکا ہے تاہم لبنانی حکام نے اس کی توثیق نہیں کی تھی اور امریکی حکومت نے بھی خاموشی اختیار کی ہوئی تھی ۔ اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ وزیر توانائی یووال اسٹائنیٹز بات چیت میں اسرائیلی وفد کی قیادت کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال بالواسطہ بات چیت ہونے والی ہے تاہم ہمیں امید ہے کہ ہم مستقبل قریب میں راست مذاکرات بھی شروع کر پائیں گے ۔
ہمارا مقصد یہ ہے کہ خصوصی معاشی زون کے تعلق سے دونوں ملکوں کے مابین پرامن طور پر مسئلہ کی یکسوئی ہوجائے ۔ اسرائیل اور لبنان دو پڑوسی ممالک ہیں اور پرامن یکسوئی سے دونوں ہی کو فائدہ ہوسکتا ہے ۔ اسرائیل اور لبنان کے مابین کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور یہ دونوں ملک فنی اعتبار سے ایک دوسرے کے خلاف جنگ میں نبرد آزما ہیں۔ دونوں ممالک بحیرہ روم میں اپنے اپنے اکنامک زونس میں تقریبا 860 مربع کیلومیٹر آبی علاقہ پر اپنا اپنا دعوی پیش کرتے ہیں۔ امریکی عہدیدار ڈیوڈ شینکر نے کہا کہ وہ کم از کم پہلے دور کی بات چیت میں امریکی وفد کی قیدات کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت میں اسرائیل یا لبنان میں کس کی نمائندگی کرینگے تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بات چیت صرف بحری حدود سے متعلق مسائل پر ہوگی اور اس کو سرحد سے علیحدہ رکھا جائیگا ۔ واضح رہے کہ جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ امن فوج موجود ہے اور اس نے بھی اس بات چیت کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا کہ وہ بھی بات چیت میں حصہ لینے والے فریقین کی حمایت کرتی ہے ۔ اقوام متحدہ سکریٹری جنرل انٹونیو گواٹیرس نے بھی بات چیت کی شروعات کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ اقوام متحدہ کی ترجمان اسٹیفانن ڈوجارک نے یہ بات بتائی ۔ امریکہ دونوں ملکوں کے مابین کئی برسوں سے مصالحت انجام دے رہا تھا ۔
