آتشزدگی حادثہ: گودام سے 2 کمسن بچوں سمیت 5 نعشیں برآمد

,

   

22 گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا گیا، مہلوکین کے ورثاء کو فی کس 5 لاکھ روپئے کا اعلان

حیدرآباد۔ 25 جنوری (سیاست نیوز) شہر کے مصروف ترین تجارتی علاقہ نامپلی میں ہفتہ کی دوپہر کو فرنیچر کی شاپ اور گودام میں لگی مہیب آگ پر اتوار کی صبح بالآخر 22 گھنٹوں کی مسلسل کوششوں کے بعد قابو پالیا گیا اور وہاں کے گودام سے پانچ نعشوں کو نکالا گیا جس میں 2 کمسن بچے بھی شامل ہیں۔ نامپلی اسٹیشن روڈ میں واقع ہندی پرچار سبھا سے متصل وشواس چیمبرس جو پانچ منزلہ عمارت ہے جس میں موجود باچا فرنیچرس اور اس کے گودام میں ہفتہ کی دوپہر مہیب آگ لگ گئی تھی جس کے بعد علاقہ میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوگیا تھا۔ آگ پر قابو پانے کیلئے 20 سے زائد فائر انجنس کا استعمال کیا گیا تھا اور حیڈرا ، این ڈی آر ایف اور محکمہ برقی کی کئی ٹیموں نے اس آپریشن میں حصہ لیا تھا۔ سیلار میں جانے کیلئے جے سی بی کے ذریعہ راستہ بناکر داخل ہوئے۔ واضح رہے کہ باچا فرنیچرس کے انتظامیہ نے وشواس چیمبرس کی عمارت کے دو سیلارس میں جمعہ کو ایک بھاری فرنیچر کا لوڈ جو چائنا سے آیا تھا، کو محفوظ رکھا تھا اور اس کی نگرانی کیلئے وہاں کے واچ مین یادیا اور لکشمی کو ذمہ داری دی گئی تھی جبکہ اس فرنیچر کی دکان اور گودام میں 22 ملازمین کام کرتے ہیں۔ ہفتہ کی دوپہر کو فرنیچر کے گودام میں اچانک آگ لگ گئی تھی جس کے نتیجہ میں 11 سالہ پرانیت اور 7 سالہ اِکھل جو واچ مین کے بچے ہیں اور وہاں کی ہاؤزکیپنگ ملازمہ بی ساکن آغاپورہ بھی موجود تھیں۔ اچانک بھڑک اٹھی آگ اور دھویں میں پھنسے ہوئے دو بچوں اور خاتون کو بچانے کیلئے گودام کے آٹو ڈرائیورس 27 سالہ محمد امتیاز ساکن آغا پورہ اور 40 سالہ سید حبیب مصطفی نگر (شاستری پورم) فوری سیلار میں پہنچ کر وہاں سے باہر نکالنے کی کوشش کی، لیکن وہ بھی آگ کی زد میں آگئے اور برسرموقع جاں بحق ہوگئے۔ پولیس کی ٹیموں نے اتوار کو پانچ نعشیں انتہائی جھلس چکی تھی، کو پوسٹ مارٹم کیلئے دواخانہ عثمانیہ کے مردہ خانہ منتقل کیا۔ مقام حادثہ پر فارنسک ماہرین کی ٹیمیں پہنچ کر وہاں سے نمونے اور اہم شواہد اکٹھا کئے تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں پولیس کو یہ پتہ چلا ہے کہ گراؤنڈ فلور پر شارٹ سرکٹ کے سبب آگ لگی تھی اور کچھ ہی دیر میں یہ آگ ساری بلڈنگ اور دو سیلارس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ راحت کاری آپریشن کا راست طور پر جائزہ لینے کیلئے کلکٹر حیدرآباد ڈی ہری چندنا اور سٹی کمشنر پولیس حیدرآباد وی سی سجنار بھی وہاں پہنچ گئے تھے۔ آگ لگنے کے واقعہ کے سلسلے میں ریاستی وزیر برائے مال پی سرینواس ریڈی نے متوفی افراد کے خاندان کو فی کس 5 لاکھ روپئے کا معاوضہ دینے کا اعلان کیا اور اس سلسلے میں کلکٹر حیدرآباد ہری چندناکو ہدایت دی۔ ب

باچافرنیچرس کے مالک ستیش باچا گرفتار

حیدرآباد۔ 25 جنوری (سیاست نیوز) باچا فرنیچرس کے مالک ستیش باچا کو عابڈس پولیس نے اتوار کو آتشزدگی واقعہ کیلئے قصوروار قرار دیتے ہوئے گرفتار کرلیا۔ اے سی پی عابڈس پی پراوین کمار نے بتایا کہ باچا فرنیچرس کے انتظامیہ نے غیرقانونی طور پر عمارت کے دو سیلارس میں بھاری مقدار میں فرنیچر کا اسٹاک رکھا تھا ۔ستیش باچا نے واچ مین یادیا اور اس کی بیوی لکشمی ان کے دو بچوں کو رہنے کیلئے سیلار ہی میں ایک کمرہ دیا تھا جوکہ غیرقانونی ہے۔ پولیس نے لاپرواہی اور بی این ایس کی دفعہ 110 کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے اسے گرفتار کرلیا ہے۔ اے سی پی نے کہا کہ عمارت کی لفٹ گزشتہ دو دنوں سے غیرکارکرد تھی اور اس کی مرمت کیلئے وائرنگ کا کام کیا جارہا تھا اور شبہ ہے کہ اس کام کے دوران شارٹ سرکٹ ہوا ہوگا۔ متوفی افراد سیلار میں ہونے اور دھویں کی شدت سے دَم گھٹنے کے بعد وہیں جھلس گئے اور پھر ان کی موت ہوگئی۔ پوسٹ مارٹم کے بعد نعشوں کو ورثا کے حوالے کردیا گیا۔ واچ مین یادیا کی شکایت پر باچا فرنیچرس کے مالک کیخلاف فوجداری مقدمہ درج کیا گیا۔ عمارت میں موجود خامیوں کا پتہ لگانے کیلئے آر این بی اور محکمہ فائر کی تیکنکی ٹیم جائزہ لے رہی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل فائر سیفٹی نے بتایا کہ دکان اور گودام کے علاوہ عمارت کے تحفظ کیلئے فائر سیفٹی احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی گئی تھیں جس کے سبب یہ سانحہ پیش آیا۔ب
(مزید خبریں صفحہ 10 پر)