آج راولپنڈی میں احتجاجی پروگرام پر سخت سکیورٹی کا جائزہ

,

   

تحریک انصاف کو 56 شرائط کے ساتھ جلسے کی اجازت

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ وفاقی پر چڑھائی روکنا چاروں صوبوں کی آئینی ذمہ داری ہے۔مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق جمعہ کو اسلام آباد میں اعلٰی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہاکہ یہ وفاق اور اس کی چاروں اکائیوں کی ذمہ داری ہے کہ ہر قسم کی غیر آئینی سرگرمی روکیں۔اجلاس میں پاکستان تحریکِ انصاف کے 26 نومبر کو راولپنڈی میں احتجاجی پروگرام سے متعلق سیکیورٹی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔اْن کا کہنا تھا کہ یہ یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی سرکاری اہل کار کسی غیر قانونی اقدام کا حصہ نہ بنے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے تحریکِ انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کی غیر مشروط معافی کے بعد تاحیات نااہلی ختم کر دی ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔فیصل واوڈا عدالت کے روبرو سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ پیش کرتے ہوئے کہا کہ غلط بیانِ حلفی دینے پر شرمندہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ اچھی نیت سے خود استعفیٰ دیا ہے آرٹیکل 63 ون سی کے تحت نااہلی تسلیم کرتا ہوں۔چیف جسٹس نے فیصل واووڈا سے کہا کہ آپ نے 3 سال تک سب کو گمراہ کیا، عدالت کے سامنے پہلے معافی مانگیں اور پھر کہیں کہ استعفیٰ دیتے ہیں۔ اگر ایسا کرتے ہیں تو نا اہلی 5 سال کی ہو گی۔اس موقع پر فیصل واوڈا نے عدالت کے روبرو غیر مشروط معافی مانگ لی۔میڈیا ذرائع کے مطابق دو سال سے زائد عرصہ تک اس کیس کی الیکشن کمیشن میں سماعت جاری رہی اور اس دوران فیصل واوڈا کی طرف سے طویل التوا طلب کیا جاتا رہا۔دسمبر 2021 میں اس کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا اور نو فروری 2022 کو اس کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا جس میں 27 صفحات پر مشتمل فیصلے میں چیف الیکشن کمشنر سکندر راجہ سلطان نے 3 رکنی کمیشن کے ساتھ متفقہ طور پر نااہل قرار دے دیا تھا۔ راولپنڈی انتظامیہ نے فیض آباد کے مقام پر پاکستان تحریک انصاف کو 56 شرائط طے کرتے ہوئے 26 نومبر بروز ہفتہ جلسہ کرنے کی اجازت دے دی۔ راولپنڈی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے ساتھ طے ہونے والے 56 نکات کے حوالے سے بتایا کہ برطانوی کرکٹ ٹیم راولپنڈی کے کرکٹ اسٹیڈیم میں ٹسٹ میچ کھیلنے کے لئے آ رہی ہے جس کے سبب جلسہ کرنے کے بعد جگہ کو مکمل طور پر خالی کر دیا جائے گا۔اجازت نامے کے مطابق جلسے میں کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعہ کی ذمہ داری جلسہ انتظامیہ پر ہو گی اور جلسہ کے بعد جلسہ گاہ کو رات کو ہی خالی کر دیا جائے گا۔جلسہ کے لئے سیکیورٹی انتظامات راولپنڈی پولیس کے ذمہ ہے۔ اجازت نامے کے مطابق تمام لیڈران اور کارکن صرف طے شدہ راستوں کو استعمال کرتے ہوئے جلسہ گاہ تک پہنچیں۔