ریاستوں کو سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی تیاری کرلینی چاہئے ، ایوان میں تحریک تشکر کے دوران وزیراعظم کا بیان
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے چہارشنبہ کو راجیہ سبھا میں کہا کہ پوری دنیا آج ہندوستان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے اور ریاستوں کو سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے تیاری کرنی چاہئے ۔ایوان میں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت وفاقیت پر یقین رکھتی ہے اور اسے پورا کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بننے سے پہلے میں وزیر اعلیٰ تھا۔ یہیں سے وفاقیت، تعاون پر مبنی وفاقیت اور مسابقتی وفاقیت سیکھی ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ G-20 اجلاس ہر ریاست اور ملک کے کونے کونے میں منعقد ہوئے ۔ اس سے ریاستوں کو عالمی سطح پر پہچان ملی۔ کووڈ کے دوران بھی وزرائے اعلیٰ کے ساتھ مسلسل رابطہ رہا۔ مرکزی حکومت نے ریاستوں کی ترقی پر توجہ دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اگلے انقلاب کی قیادت کر رہا ہے ۔ اس کا فائدہ اٹھانے کیلئے ریاستوں کے درمیان ترقی کا مقابلہ ہونا چاہیے ۔ پوری دنیا ہندوستان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے اور یہ ریاستوں کیلئے ایک موقع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا مسابقت ہونی چاہیے ۔ سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں تیزی سے کام جاری ہے جس سے شمال مشرق کو فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ صدی ہندوستان کی صدی ہے ۔ مواقع تلاش کرنے ہوں گے اور قراردادوں کو پورا کرنا ہوگا۔ 140 کروڑ کی آبادی ایک موقع ہے ۔ ہندوستان سب سے کم عمر ملک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کا مشن کسی حکومت کا نہیں ہے ۔ سب کا مشن ہے ۔ پوری دنیا سرمایہ کاری کیلئے تیار ہے ۔ ریاستوں کو تیار رہنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ سال 2023 ء کو جوار کا سال قرار دیا گیا۔ اس سے چھوٹے کسانوں کو فائدہ ہوگا۔ موٹا اناج کسانوں کی طاقت ہے ۔ اس کا فائدہ اٹھانے کیلئے ریاستوں کو آگے آنا چاہیے اور عالمی مارکیٹ کیلئے منصوبہ بندی کرنی چاہیے ۔جوار دنیا میں غذائیت کے بحران کا ایک موقع ہے ۔مودی نے کہا کہ عام آدمی کیلئے زندگی کی موافقت ایک ضرورت ہے ۔ اس کیلئے ریاستوں کا کردار اہم ہے ۔ بدعنوانی کے خلاف جنگ کو نچلی سطح تک لے جانے میں بھی ریاستوں کو بھی آگے آنا ہوگا۔ اس سے عام آدمی کو بدعنوانی نجات ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ خدمات میں کارکردگی کی ضرورت ہے اور ان کی فراہمی میں تیزی لائی جائے ۔ ریاستوں کو جلد فیصلے لینے چاہئیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں حکومتی مداخلت کم سے کم ہو۔ لیکن حکومت کی عدم موجودگی نہیں ہونی چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ عام آدمی کی زندگی کو آسان بنانے کیلئے ہمیں اجتماعی طور پر کام کرنا ہو گا۔ ریاستوں کو سیاسی طاقت سے کام کرنا ہوگا۔