آج پھر سچ نے خودکشی کرلی

   

Ferty9 Clinic

عمر خالد اور شرجیل امام … سپریم کورٹ نے مایوس کردیا
وشوا گرو کا امرت کال … گرمیت رام رحیم پر مہربانی

رشیدالدین
’’ضمانت قاعدہ ہے جبکہ جیل استثنیٰ‘‘ یہ بات ہم نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ سپریم کورٹ نے ایک سے زائد مرتبہ اپنے فیصلوں میں یہ کہتے ہوئے واضح کیا کہ ضمانت ملزم کا حق ہے جبکہ جیل صرف استثنائی صورتحال میں ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ اصول شائد ان کے لئے ہے جن کی ضمانت حکومت چاہتی ہے۔ حکومت اور حکمراں طبقہ کو جن کی ضمانت منظور نہیں ، ان کے لئے ضمانت استثنیٰ اور جیل قاعدہ بن چکا ہے ۔ عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت سے سپریم کورٹ کے انکار کے بعد نہ صرف عوام بلکہ قانون کے حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ ایک ہی جرم کے معاملہ میں ملزمین کے درمیان امتیازی سلوک کیوں ؟ ہندوستان میں عدلیہ ، آزاد اور غیر جانبدار ہے، اس دعویٰ پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ نریندر مودی کے وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے کے بعد عدلیہ پر حکومت کا کنٹرول ہوچکا ہے ۔ عدلیہ کے زیادہ تر فیصلے حکومت کی مرضی مطابق صادر کئے جارہے ہیں۔ انصاف رسانی کے ادارہ کے ذریعہ ناانصافی کے ننگے ناچ کا نظارہ کرنے کیلئے مودی حکومت نے انصاف کی مورتی کی آنکھوں سے پٹی نکال دی ہے۔ قانون اور انصاف کی مورتی کی آنکھوں پر پٹی کا مطلب یہ تھا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور با رسوخ شخص ہوں یا عام آدمی ہر کسی کے ساتھ یکساں سلوک ہوگا لیکن مورتی کی آنکھوں سے پٹی کیا ہٹی انصاف رسانی کا عمل سوالات کے گھیرے میں ہے۔ عدالتوں میں لگائی گئی نئی انصاف کی مورتی بھی حالات پر خون کے آنسو رو رہی ہوگی۔ کسی نے کیا خوب کہا کہ قانون دراصل مکڑی کا جال ہے جس میں صرف کیڑے مکوڑے پھنستے ہیں جبکہ بڑے جانور نکل جاتے ہیں ۔ عمر خالد اور شرجیل امام کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ نے عدلیہ کی آزادی ، غیر جانبداری اور بے باکی پر سوال تو کھڑے کردیئے لیکن دوسری طرف عدلیہ پر عوام کا اعتماد متزلزل ہوچکا ہے ۔ 2020 دہلی فسادات کی سازش کے الزام میں عمر خالد ، شرجیل امام اور دیگر پانچ طلبہ قائدین اور جہد کاروں کو UAPAقانون کے تحت گرفتار کیا گیا۔ پانچ سال تین ماہ سے تمام 7 ملزمین جیل میں ہیں اور ٹرائل کا ابھی تک آغاز نہیں ہوا۔ ٹرائل کے بغیر پانچ سال سے زائد عرصہ تک جیل میں رکھنا دستور کی خلاف ورزی ہے ۔ سپریم کورٹ نے تقریباً 15 مرتبہ ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کو مختلف بہانے بناکر ٹال دیا۔ بعض ججس نے ضمانت کی درخواست کی سماعت سے خود کو علحدہ کرلیا۔ عمر خالد اور ساتھیوں کو تاریخ پہ تاریح ملتی رہی لیکن انصاف نہیں ملا ۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریہ نے ضمانت کی درخواستوں پر آخرکار فیصلہ سنایا جس میں عمر خالد اور شرجیل امام کو چھوڑ کر دیگر پانچ ملزمین کی ضمانت منظور کی گئی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ عدالت نے ایک سال تک ضمانت کی درخواست داخل کرنے پر روک لگادی ہے۔ مطلب صاف ہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام کو مزید ایک سال تک جیل میں ہی رہنا ہوگا۔ تمام ملزمین کے خلاف یکساں الزامات کے باوجود عدالت نے امتیازی سلوک کیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ عمر خالد اور شرجیل امام پر الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور پولیس نے جو ثبوت فراہم کئے ہیں، وہ ٹھوس ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ٹھوس شواہد موجود ہیں تو پھر پانچ برسوں میں ٹرائل شروع کیوں نہیں کیا گیا ؟ مودی حکومت آخر عمر خالد اور شرجیل امام سے خوفزدہ کیوں ہے ؟ فیصلہ کے بعد وکلاء برادری میں مختلف تبصرے کئے جانے لگے۔ کسی نے کہا کہ جو فیصلہ جسٹس اروند کمار نے پڑھ کر سنایا وہ دراصل پہلے سے تیار شدہ دکھائی دے رہا تھا اور جسٹس اروند کمار نے عدالت میں پڑھنے کی رسم ادا کی۔ کسی نے کہا کہ مودی کے دوستوں کو راحت اور مخالفین کو ضمانت بھی نہیں۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس انجاریہ نے ایک ہی دن میں دو فیصلے سنائے۔ ایک میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کیا تو دوسرے فیصلہ میں مودی کے قریبی صنعت کار گوتم اڈانی کو ہزاروں کروڑ کی ٹیکس رعایت کی راہ ہموار کردی۔ اسے محض اتفاق ہی کہا جائے کہ دونوں ججس کا تعلق گجرات سے ہے۔ ظاہر ہے کہ تعلق گجرات سے ہو تو پھر گجرات کی جوڑی مودی ۔ امیت شاہ کو ناراض نہیں کیا جاسکتا۔ وکلاء برادری کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں مزید نئے جسٹس بیلا ایم ترویدی تیار ہورہے ہیں ۔ جسٹس بیلا ترویدی کا تعلق گجرات سے تھا اور حالیہ عرصہ میں ان کی سبکدوشی کے وقت سپریم کورٹ کے وکلاء نے وداعی تقریب تک نہیں کی ۔ سپریم کورٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی جج کی سبکدوشی پر وکلاء نے فیرویل نہیں دیا۔ ریٹائرڈ ہونے والے جج کی اس سے بڑھ کر توہین کیا ہوگی کہ رسمی وداعی بھی نہ ہو۔ جسٹس بیلا ترویدی نے مودی حکومت کے حق میں کئی فیصلے سنائے اور بتایا گیا ہے کہ حکومت کی دلچسپی کے تمام مقدمات بیلا ترویدی کی بنچ سے رجوع کئے جاتے تھے اور فیصلہ حکومت کی مرضی کے مطابق ہوتا۔ کھلی جانبداری اور حکومت کے اشاروں پر کام کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ’’بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے‘‘ کے مصداق پھول اور شال کے بغیر گھر واپسی ہوئی۔ عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے فاضل ججس عدلیہ کے اصول کو بھی بھول گئے کہ ’’ انصاف میں تاخیر انصاف سے محرومی ہے‘‘ سپریم کورٹ کے فیصلہ نے ٹرائل کے بغیر کسی بھی شخص کو برسوں تک جیل میں رکھنے کی حکومت کو اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلہ کی روشنی میں حکومت سے سوال کرنے والوں کی خیر نہیں۔
’’میرے بیٹے کے ساتھ ناانصافی ہوئی، میں جانتا ہوں کہ وہ بے قصور ہے‘‘۔ یہ الفاظ عمر خالد کے والد قاسم رسول الیاس کے ہیں جو بڑی امید کے ساتھ سپریم کورٹ پہنچے تھے کہ آج ان کا بیٹا گھر واپسی کریگا لیکن فیصلہ سننے کے بعد بوجھل قدموں سے گھر کی طرف جاتے ہوئے ایک باپ کی زبان سے بس یہی نکلا کہ میرا بیٹا بے قصور ہے۔ قاسم رسول الیاس کے جذبات ایک عام باپ سے اس لئے بھی مختلف ہے کیونکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ عمر خالد کو فرضی اور بے بنیاد الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ۔ فسادات کے وقت عمر خالد دہلی میں نہیں تھے اور پولیس نے ان کی ایک پرانی تقریر کو توڑ مروڑ کر عدالت میں پیش کیا۔ عمر خالد کی مکمل تقریر بعد میں وائرل ہوئی جو ایک حقیقی ہندوستانی اور حب الوطن شخص کے الفاظ تھے۔ کسی بھی قصور کے بغیر قید کی زندگی بسر کرنے والے عمر خالد نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر صرف اتنا کہا کہ اب یہی زندگی ہے اور شائد عمر بھر جیل میں گزارنا ہوگا۔ سپریم کورٹ میں جس وقت عمر خالد کی ضمانت کی درخواست مسترد کی گئی ، اسی وقت ڈیرا سچا سودا کا سربراہ گرمیت رام رحیم 15 ویں مرتبہ پیرول پر جیل سے رہا ہوا۔ گرمیت رام رحیم پر اپنے دو ساتھیوں کی عصمت ریزی اور ایک صحافی کے قتل کا الزام ثابت ہوچکا ہے۔ عدالت کی جانب سے 2017 میں اسے مجرم قرار دیا گیا، باوجود اس کے 15 مرتبہ وہ پیرول پر جیل سے باہر نکل چکا ہے۔ وشوا گرو کے امرت کال میں گرمیت رام رحیم کی پیرول پر رہائی کوئی تعجب کی بات نہیں۔ آسارام اور گردیپ سنگھ سینگر کو بھی ضمانت حاصل ہوچکی ہے، سینگر کی ضمانت کو سپریم کورٹ نے رد کردیا اور دہلی فسادات کا ذمہ دار کپل مشرا جیل کے بجائے دہلی حکومت میں وزیر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 8 سال 4 ماہ کے دوران گرمیت رام رحیم 387 دن جیل سے باہر رہا اور اب مزید 40 دن کی رہائی کے ذریعہ حکومت نے مہربانی کی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب کبھی انتخابات آتے ہیں ، رام رحیم پیرول پر رہا کیا جاتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ رام رحیم جیل میں نہیں رہتا بلکہ کبھی کبھار جیل چلا جاتا ہے۔ پیرول پر رہائی حکومت کا فیصلہ ہوتی ہے اور بار بار مہربانی کے بجائے ایک ہی وقت میں فائل پر دستخط کرتے ہوئے سزا معاف کردی جائے تب بھی کسی کو حیرت نہیں ہوگی۔ سپریم کورٹ کے سابق ججس اور موجودہ سینئر وکلاء نے بھی عمر خالد اور شرجیل امام کے ساتھ سپریم کورٹ کے جانبدارانہ رویہ پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ایجی ٹیشن میں حصہ لینے والے جہدکاروں اور اسٹوڈنٹ لیڈرس کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی نوجوان حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت نہ کرے۔ مودی حکومت کو جان لینا چاہئے کہ ناانصافی اور ظلم مستقل برقرار نہیں رہ سکتا اور ایک نہ ایک دن جمہوریت اور انصاف پسند طاقتوں کو برتری حاصل ہوگی۔ نریندر مودی کیلئے مغربی بنگال کے چیف منسٹر ممتا بنرجی بہتر علاج ہیں جنہوں نے اسمبلی انتخابات میں شکست دینے کی ایک گہری سازش کو ناکام بناتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ اگر عوام ساتھ ہوں تو کسی بھی بڑی طاقت سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے ذریعہ مودی حکومت نے ممتا بنرجی کی انتخابی حکمت عملی اور امکانی امیدواروں کی تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی جسے ممتا بنرجی نے ناکام بنادیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر نامور شاعر حیدر علوی کی یہ شعر صادق آتا ہے ؎
آج پھر جھوٹ کھل کھلاکے ہنسا
آج پھر سچ نے خودکشی کرلی