لکھنؤ:سماج وادی پارٹی(ایس پی) کے قومی صدر و سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے اتوار کو کہا کہ 25جون 1975 کی سیاہ یادیں 48 سال گزر جانے کے بعد آج پھر ڈر پیدا کرتی نظر آرہی ہیں۔ ایمرجنسی میں جہاں شہریوں کے حقوق چھینے گئے وہیں 19مہینوں میں ملکی باشندے خوفزہ تھے۔ عدم اتفاق کی آواز پر پابندی اور زبردستی تھوپی گئی تاناشاہی حکومت کی مخالفت کرنے والے حقیقت میں بھارت کے جمہوریت کے محافظ تھے۔ اقتدار کی ہوس میں جمہوری اور تحریک آزادی کے اقدار سے صرف نظر غیر اعلانیہ ایمرجنسی کی علامت ہے۔اکھلیش یادو نے کہا کہ آج کے حالات ایمرجنسی سے بھی بدتر ہیں۔ آج سچ بولنے پر کاروائی ہو رہی ہے۔ حکومت سے سوال پوچھنے پر ایکشن لیا جاتا ہے۔ بی جے پی حکومت میں کوئی بھی انصاف کی امید نہیں رکھ سکتا۔ عوام کے آئینی اور جمہوری حقوق چھینے جا رہے ہیں۔ آئینی اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ آزادی صحافت خطرے میں ہے