آج کے ہندوستان میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے

   

پروفیسر اپوروانند
ملک میں مسلمانوں کو کئی ایک مسائل کا سامنا ہے سب سے بڑا مسئلہ تو انہیں فرقہ پرست طاقتوں سے ہے جو بدقسمتی سے خودکو قوم پرست اور محب وطن قرار دیتی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی طاقتیں عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہہ متاثر کررہی ہیں۔ اگرچہ فرقہ پرست دوسری اقلیتوں بالخصوص عیسائیوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں لیکن ان کے ہاتھوں سب سے زیادہ مسلم اقلیت ہی متاثر ہو رہی ہے اور اس ضمن میں کوئی دو رائے بھی نہیں ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال میں جبکہ بھولے بھالے ہندوستانیوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر بھرنے کوئی کسر باقی نہیں رکھی جارہی ہے ایسے میں یہ سوال کہ آخر مسلمانوں کو ان حالات میں کیا کرنے کی ضرورت ہے کیا جارہا ہے اور گزشتہ 11 برسوں سے بار بار پوچھا جارہا ہے مختلف مقامات پر اور مختلف مواقع پر اکثر مایوسی کے عالم میں مسلمان دوسرے سے یہ کہتے ہیں کہ ملک کے موجودہ حالات میں جبکہ مسلمانوں کا گھیرا تنگ کیا جارہا ہے انہیں (مسلمانوں کو) کیا کرنا چاہئے اور خود کو کیسے دوسروں کے سامنے پیش ہونا چاہئے کس قسم کا طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔ جہاں تک راقم الحروف کا سوال ہے مسلسل اس سوال پر حیرت میں غرق ہو جاتا ہوں کہ مذکورہ سوال کو کیسے سمجھا جائے کب اور کن حالات میں اسے سمجھا جائے کیا یہ سوال یا اس قسم کا سوال کوئی ہندوستانی ہندوؤں یا جین مذہب کے ماننے والوں سے سنا ہے؟ تو پھر کیوں ہندوستانی مسلمانوں کو ایسا سوال کرنا چاہئے۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ سوال خود غلط ہے کیا ہندوستانی مسلمان ایک ہی اکائی ہیں جن کے یہاں زندگی گذارنے کا ایک ہی طریقہ ہوتا ہے۔ ہندوستانی مسلم کی اصلاح میں کروڑہا مرد و خواتین، مختلف جنسی رجحانات کے حامل افراد، بچے، جوان اور بوڑھے سب شامل ہیں یہ ایک اسم جمع ہے یعنی یہ وہ اسم ہے جو ایک گروہ یا جماعت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک اسم جمع ہے مگر ایسا اسم جس میں بے شمار، اسم معرف اور دوسری اجتماعی شناختیں شامل ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مختلف حالات، تقاضوں اور لسانی پس منظر میں ڈھلے ہیں جو مختلف حالات سے گذرے ہیں اور اب بھی گذار رہے ہیں، جنہیں معاشرہ میں کئی ایک تقاضوں اور چیالنجس کا سامنا ہے اور جو مختلف زبانیں بولتے ہیں، مختلف تہذیبوں کی نمائندگی کرتے ہیں ان تمام کو ایک اجتماعی اصلاح کے تحت سمیٹنا کتنا معقول ہے اور کیا واقعی ایسا ممکن بھی ہے؟ ڈاکٹر، ٹیچر، ورکر، رائٹر، موسیقار، کسان کب یہ مدھم ہونا شروع ہوتی ہیں اور کب ایک ہی شناخت ان سب پر چھا جاتی ہے ڈاکٹر چاہے وہ ہندو، مسلم یا سکھ ہو اس سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے پیشہ کے اخلاقیات یا اخلاقی اصولوں کے عین مطابق عمل کرے یہی بات انجینئروں، اساتذہ، مستریوں یا حجاموں کے بارے میں کہی جاسکتی ہے تو پھر کب یہ پیشہ وارانہ شناختیں اور پہچان پیچھے چلی جاتی ہیں اور کب مسلمان ہونے کی واحد شناخت مابقی تمام شناختوں پر غالب آجاتی ہے اور راقم نے جو کچھ سطور بالا میں لکھا ہے اس کی تازہ ترین مثال ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں شہرت و مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچنے والے موسیقار اے آر رحمن ہیں۔ ان کے بارے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ صرف دو ہفتے قبل وہ ایک موسیقار تھے اب وہ صرف مسلمان ہیں ایسا ہی کچھ بار بار بالی ووڈ کے بادشاہ خان یعنی شاہ رخ خاں کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ حال ہی میں ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کی ریاستی بی جے پی حکومت کے ایک وزیر نے پہلے تو سلمان خاں کو قتل کرنے کی بات کی اور پھر خود کی تصیح کرتے ہوئے کہا کہ درحقیقت وہ سلمان خاں نہیں بلکہ شاہ رخ خاں کے بارے میں بات کررہے تھے۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر سلمان خاں اور شاہ رخ خاں نے ایسا کیا سنگین جرم کیا ہے جس کے نتیجہ میں وہ قتل کئے جانے کے قابل ہوگئے یا پھر ان کا یہی جرم ہیکہ وہ مسلمان ہیں۔ عامر خاں بھی بالی ووڈ کے ایک مشہور و معروف اداکار ہیں ان کی مسلم شناخت بحیثیت اداکار ان کی شناخت یا پہچان پر چھا گئی ہے یا پھر ذرا سیف علی خاں پر غور کیجئے یا محمد سمیع اور محمد سراج جیسے ہندوستان کے مایہ ناز کرکٹرس کے بارے میں غور کیجئے کب ہم نے اچانک یہ دریافت کیا کہ وہ مسلمان ہیں؟ اور کب ڈاکٹر کفیل خاں جنہوں نے بچوں کو موت کے منہ میں پہنچنے سے بچانے کے لئے آکسیجن کا انتظام کیا کب انہیں صرف ایک مسلمان کے طور پر دیکھا گیا اور کب اور کیسے عمر خالد جیسا مارکسٹ صرف ایک مسلم تک محدود ہوکر رہ گیا؟ زائد از پچھلے 11 برسوں میں ہم نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے اور وہ بھی ان کی زندگیوں میں پہلی مرتبہ چاہے وہ ججس، وکلاء، ڈاکٹرس یا سائنسداں کیوں نہ ہوں انہیں آخر میں ایک مسلمان ہی تصور کیا گیا۔ اس سے پہلے کبھی بھی ان لوگوں نے ایسا محسوس نہیں کیا تھا۔ ہندوستان میں ایک مسلمان ہونے کی قیمت مختلف ہوسکتی ہے لیکن آج ہر مسلمان کو وہ قیمت ادا کرنا ضروری ہوگیا ہے اگرچہ مسلمان آزادی سے مسلسل فرقہ وارانہ تشدد کا سامنا کررہے ہیں اور فرقہ پرستوں کے ہاتھوں وہ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جبکہ پچھلے 11 برسوں میں ان کے متاثر ہونے کی شرح یا فیصد بہت بڑھ گئی ہے وہ وقفہ وقفہ سے اجتماعی طور پر تشدد کا نشانہ بنتے رہے ہیں لیکن گیارہ برسوں کے دوران یہ دیکھا گیا کہ مسلمانوں پر فرقہ وارانہ تشدد کا انداز یکسر تبدیل ہوگیا ہے۔ اب ایک تنہا مسلمان بھی یہ نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کب اور کیا ہو جائے۔ مثال کے طور پر چار مسلمان جو ممبئی جئے پور ایکسپریس میں دوران سفر سو رہے تھے وہ یہ کیسے جانتے کہ ایک پولیس اہلکار جسے مسافرین کی سیفٹی ان کے تحفظ کی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی ان چاروں کے نام پوچھ کر انہیں قتل کردے گا؟ ایک مسلم خاتون ٹرین میں اپنے سفر کے بارے میں لکھتی ہیں کہ ایک چھوٹا سا لڑکا ان کے پاس آکر ان کے شوہر سے دریافت کرتا ہے کہ آیا وہ مسلمان ہے اس بچے نے صرف ان کے مذہب کے بارے میں دریافت ہیں کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ مسلمانوں کو گولی ماردینی چاہئے۔ ایک چھوٹے سے بچہ کی گفتگو نے اس خاتون کو ایک صدمہ سے دوچار کردیا اور اپنے ساتھ پیش آئے تلخ تجربہ سے وہ اس قدر متاثر ہوئی کہ اس نے پھر کبھی ٹرین میں سفر کرنا چھوڑ دیا جب میں نے اس واقعہ کا ممبئی میں منعقدہ ایک میٹنگ میں حوالہ دیا ایک مسلم نوجوان نے بتایا کہ شہر کی لوکل ٹرینوں میں اکثر اسے ایسے ہی ریمارکس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب سرعام کسی کے مذہب کے خلاف ریماکس کئے جاتے ہیں تو پھر وہ کس طرح ردعمل کا اظہار کرے خاص طور پر ہندو مذہبی جلوسوں کے موقع پر حکمراں پارٹی کے لیڈران اس قسم کے اشتعال انگیز ریمارکس کرتے ہیں یا پھر ہندو مذہبی تہواروں کے موقع پر بلند آواز میں ایسے گانے بجائے جاتے ہیں جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ اسی طرح جب ایک کامن چاٹ گروپس میں جب اسکول کے پرانے ہم جماعتوں کی جانب سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس کئے جاتے ہیں تو ایک مسلمان سے کس طرح کے ردعمل کی توقع کی جائے۔ آج حقیقت میں دیکھا جائے تو ایک عام ہندوستانی مسلمان کی زندگی بے یقینی کا شکار ہے وہ نہیں جانتے کہ ان کے ساتھ کب اور کیا ہو جائے وہ اس بارے میں کچھ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ان کے ساتھ سفر کرنے والا یا ایک پڑوسی یا پھر ایک ساتھی ان کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کرے کیونکہ اکثر یہی دیکھا جارہا ہے کہ مسلمانوں سے نفرت کا زہر بھولے بھالے ہندوؤں کے ذہنوں میں اس قدر بھر دیا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف تشدد اور قتل کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ آج ہندوستان کے ایک عام مسلمان کی زندگی میں فرقہ وارانہ تشدد کا خطرہ لگا رہتا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے خطرات انہیں اپنے پڑوسی راستے سے گذرنے والے یہاں تک کہ ایک پولیس آفیسر سے بھی لاحق ہے۔ دوسری طرف بی جے پی کے سیاسی لیڈران مسلمانوں کو باقاعدہ مسلسل اور برسر عام دھمکیاں دے رہے ہیں ان کے خلاف فحش کلامی کررہے ہیں اس کے علاوہ لا اینڈ آرڈر حکام کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ کھلی جانبداری برتی جارہی ہے، امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے ہے جو یقینا مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ ذرا تصور کیجئے ایک ایسی صورتحال کا جس میں ایک اسکول میں دو بچے آپس میں جھگڑا کرتے ہیں اور ایک لڑکا دوسرے لڑکے پر چاقو سے حملہ کردیتا ہے اگر یہ دونوں لڑکے ہندو ہوتے تو حکام کیا کرتے اور اگر ان میں سے ایک لڑکا اور وہ بھی چاقو سے حملہ کرنے والے مسلمان ہوتو ان پولیس والوں کا کیا موقف ہوتا؟ کیا پولیس والے یا لا اینڈ آرڈر کے حکام ہندو لڑکے کا مکان منہدم کردیتے؟ لیکن یہ پورے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ مسلم لڑکے کے والدین یا سرپرستوں کا مکان منہدم کردیا جاتا۔ ایسا ہی ایک واقعہ راجستھان کے اودے پور میں پیش آیا عہدیداروں نے مسلم لڑکے کے والدین کے مکان کو منہدم کردیا اور حد تو یہ ہیکہ انہوں نے یہ بھی دیکھنا گوارا نہیں کیا کہ آیا جس گھر کو ان لوگوں نے منہدم کیا وہ حقیقت میں اس مسلم لڑکے کے والدین کا ہے یا وہ کرایہ دار کے طور پر وہاں مقیم ہیں۔