نئی دہلی : تین متنازعہ زرعی قوانین سے دستبرداری کا مطالبہ کرتے ہوئے پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں نے 8دسمبر کو ملک گیر بند کا اعلان کیا ۔ احتجاجی کسانوں کا کہنا ہے کہ منگل کو 11 بجے سے 3 بجے تک چکہ جام کریں گے ۔مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کا احتجاج شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ ہفتہ کو مرکزی حکومت اورکسانوں کے درمیان پانچویں دور کی بات چیت بھی بے نتیجہ رہی ۔ کسان لیڈر نربھئے سنگھ نے بھارت بند سے متعلق کہا کہ ہمارا احتجاج صرف پنجاب تک محدود نہیں ہیبلکہ کناڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو جیسے دنیا بھر کے لیڈران بھی ہمیں اپنی حمایت دے رہے ہیں۔ ہمارا احتجاج پرامن ہے اور پرامن رہے گا۔ کسان لیڈر ڈاکٹر درشن پال نے کہا کہ کل دوپہر تین بجے تک چکہ جام رہے گا ۔ لدھیانہ سے پردھان پنجاب ٹرانسپورٹ اسوسی ایشن کے چرنجیت سنگھ لوہارا نے کہا کہ آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ کانگریس نے کسانوں کی حمایت میں 8 دسمبر کو چکہ جام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرانسپورٹ یونین ، ٹرک یونین ، ٹیمپو یونین سبھی نے بند کو کامیاب بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بند پور ے ہندوستان میں ہوگا۔ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے مظاہرہ کرنے والے کسانوں سے کی ملاقات اورانتظامات کا لیا جائزہ۔