آخری رسومات کی انجام دہی اور استھیوں کیلئے بھاری رقم کی وصولی، گاندھی ہاسپٹل میں نعشیں دینے رشوت کا بازار گرم

   

حیدرآباد۔ سرکاری دواخانہ میں ہونے والی اموات کی آخری رسومات کی انجام دہی اور استھیوں کے حصول کے لئے 50 ہزار روپئے تک ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ تلنگانہ میں گاندھی ہاسپٹل میں ہونے والی اموات کے بعد رشتہ داروں کو نعشوں کے حصول کے لئے بھاری رشوت ادا کرنی پڑرہی ہے اور پیسہ ادا نہ کرنے کی صورت میں انہیں نعش حوالہ کرنے سے انکار کیا جا رہاہے او رکہا جار ہاہے کہ انہیں انتظار کرنا پڑے گا۔ نعشوں کو اپنی آمدنی کا ذریعہ بنانے والوں کی جانب سے متوفی کے رشتہ داروں سے دولت کے حصول کے ذریعہ ان کے آخری رسومات انجام دینے کی پیشکش شروع کردی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے شمشان گھاٹ میں جہاں گاندھی ہاسپٹل میں رشتہ دارو ںکی جانب سے چھوڑی گئی نعشوں کی آخری رسومات انجام دینے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ان نعشوں کی استھیوں کو حاصل کرنے کیلئے متوفی کے رشتہ داروں کو 50ہزار ادا کرنے پڑرہے ہیں اورمتوفی کے رشتہ داروں کی آخری رسومات کی جلد ادائیگی کیلئے اس سے زیادہ رقم ادا کرنی پڑرہی ہے اور اگر کوئی رشتہ دار اپنے متوفی کی نعش حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے بھی انتظار کروایا جا رہاہے اورجب تک رشوت نہیں دی جا رہی ہے ان کی نعشوں کو حوالہ نہیں کیا جا رہاہے۔ اسی طرح شمشان گھاٹ میں موجود عہدیداروں کی جانب سے استھیوں کے حصول کیلئے پہنچنے والوں کو ہراساں کرتے ہوئے انہیں استھیاں حاصل کرنے سے روکا جا رہاہے اور کہا جار ہاہے کہ کورونا وائرس کے سبب فوت ہونے والوں کی استھیاں حاصل نہ جائیں لیکن جب متوفی کے رشتہ داروں کی جانب سے بھاری رقم ادا کی جا رہی ہے تو یہ اجازت دی جانے لگی ہے۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع سے بھی اس طرح کی شکایات موصول ہورہی ہیں لیکن کسی بھی محکمہ کی جانب سے ان لوگوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے جو ان حرکتوں میں ملوث ہیں۔ایمبولنس کے ذریعہ نعشوں کی منتقلی کے لئے بھی بھاری رقومات وصول کی جار ہی ہیں اور کہا جار ہاہے حکومت کی جانب سے یہ سہولت مفت ہے لیکن عملہ کی جانب سے یہ رقومات وصول کی جانے لگی ہیں جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔بتایا جاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں نعش کو نذرآتش کرنے اور گاندھی ہاسپٹل میں فوت ہونے والے افراد کی نعشوں کو نذرآتش کرنے کے اخراجات میں 50گنا اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور اس میں سے 90 فیصد رقومات رشوت میں خرچ کی جانے لگی ہیں۔