آخر چیف منسٹر کو بہوجن سماج سے کیا دشمنی ہے ؟

   

بہوجن سماج کی حامی تحصیلدار پی رادھا کے تبادلہ پر آر ایس پروین کمار کا استفسار
حیدرآباد۔12 اگسٹ(سیاست نیوز) بہوجن سماج پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے مستعفی آئی پی ایس عہدیدار مسٹر آر ایس پروین کمار کے جلسہ عام میں شرکت کرنے والی تحصیلدارپی رادھا کو ضلع کلکٹر نلگنڈہ پرشانت جیون پاٹل نے ان کا تبادلہ کردیا جس پر مسٹر آر ایس پروین کمار نے اپنے ٹوئیٹر کے ذریعہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک اچھی عہدیدار کو انتظامیہ نے آج ان کے مقام سے کافی دور تبادلہ کردیا ہے ‘ انہوں نے استفسار کیا کہ کے سی آر حکومت کو آخر بہوجن سماج سے کیا دشمنی ہے! پی رادھا تحصیلدار جو کہ آر ایس پروین کمار کی جانب سے چلائی جانے والی تنظیم سوائیرو کی ابتداء سے ہی رکن ہیں نے بتایا کہ وہ اپنی شخصی حیثیت سے اس جلسہ عام میں شرکت کی ہیں اور وہ مسٹر آر ایس پروین کمار کی حامی ہیں ۔ انہو ںنے بتایا کہ ان کی اس جلسہ عام میں شرکت کی پاداش میں اگر ان کا تبادلہ کیا گیا ہے تو وہ اس بات سے خوفزدہ ہونے والوں میں نہیں ہیں بلکہ وہ پروین کمار کی حمایت اور تائید جاری رکھیں گی ۔انہو ںنے بتایا کہ وہ تبادلہ کی وجوہات سے واقف نہیں ہیں لیکن اچانک کئے گئے اس فیصلہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں 8 اگسٹ کو منعقد ہونے والے جلسہ عام میں شرکت کے باعث ہی ان کے عہدہ سے تبادلہ کرتے ہوئے دوسری جگہ متعین کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ پی رادھا نے کہا کہ تبادلہ تو بہت چھوٹی چیز ہے وہ او رسوائیرو کے ارکان آر ایس پروین کمار کے لئے اپنی جان دینے کے لئے بھی تیار ہیں کیونکہ پروین کمار نے بہوجن سماج کی ترقی کی راہیں ہموار کرنے کیلئے اپنی زندگی لگائی ہے۔ ضلع کلکٹر نلگنڈہ کی جانب سے پی رادھا کے تبادلہ کے احکامات کی اجرائی کو مختلف گوشوں سے تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا ہے اورکہا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت اور انتظامیہ بہوجن سماج کے خلاف اقدامات میں مصروف ہے جبکہ بہوجن سماج اپنی ترقی و فلاح و بہبود کی جدوجہد کررہا ہے۔ آر ایس پروین کمار کے بہوجن سماج پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے فیصلہ کے بعد ان کے حامیوں کی بڑی تعداد کی جانب سے بہوجن سماج کی ترقی اور ان کی سیاسی ترقی پر کھل کر اظہار خیال کیا جانے لگا ہے ۔ آر ڈی او نلگنڈہ مسٹر جگدیشور ریڈی نے پی رادھا کے تبادلہ کو انتظامی امور کے تحت کی گئی کاروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی انتقامی کاروائی نہیں ہے بلکہ ان کا نلگنڈہ کے ہی حدود میں موجود ایک اور منڈل میں جہاں ان کی ضرورت ہے تبادلہ کیا گیا ہے۔