آبادی سے زیادہ آدھار کارڈز کی اجرائی، غیر مقامی افراد کی شمولیت
حیدرآباد۔آدھار کارڈ کی اجرائی کے معاملہ میں حیدرآباد نے ریکارڈ قائم کیا ہے جہاں آبادی سے زیادہ آدھار کارڈ جاری کئے گئے۔ مائیگرنٹ ورکرس اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی جانب سے آدھار کارڈ کیلئے اپنا نام رجسٹرڈ کرانے کے سبب حیدرآباد میں آبادی سے زیادہ کارڈز کی اجرائی کی اطلاع ملی ہے۔ آدھار کارڈ اتھاریٹی کے اعداد و شمار کے مطابق 1.21کروڑ آدھار کارڈ حیدرآباد میں جاری ہوئے ہیں۔ دہلی اور ممبئی کو آدھار کی اجرائی کے سلسلہ میں دوسرا اور تیسرا مقام حاصل ہوا ہے۔ آندھرا پردیش، ٹاملناڈو، کرناٹک ، مہاراشٹرا، چھتیس گڑھ، آسام، جھار کھنڈ، بہار، مدھیہ پردیش، اوڈیشہ اور راجستھان کے علاوہ شمال مشرقی ریاستوں کے مائیگرنٹ افراد تعلیم اور روزگار کیلئے حیدرآباد میں مقیم ہیں۔ اس کے علاوہ آئی ٹی، ہیلت اور صنعتی شعبہ جات سے وابستہ افراد کی کثیر تعداد حیدرآباد میں مقیم ہے۔ کئی برسوں سے حیدرآباد میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ نے بھی آدھار کارڈ کیلئے اپنا نام رجسٹرڈ کروایا ہے۔ آدھار کیلئے بینکنگ اور دیگر سرگرمیاں اہم ثبوت ثابت ہوسکتی ہیں۔ 1999-2001 کے درمیان حیدرآباد میں آبادی کی شرح میں اضافہ 28.91 فیصد درج کیا گیا جبکہ 2011 تک یہ گھٹ کر 26 فیصد ہوچکا ہے۔ 2011 مردم شماری کے مطابق حیدرآباد کی آبادی 74.04 لاکھ ہے جو 2017 تک 93.06 لاکھ ہوچکی ہے۔ شہر کی موجودہ آبادی ایک کروڑ 10 لاکھ ریکارڈ کی گئی ہے۔