آرام گھر تا شمس آباد زیر تعمیر پل کا حصہ منہدم

   

ناقص تعمیرات پر توجہ کی ضرورت، عوام کو مشکلات
حیدرآباد۔ آرام گھر سے شمس آباد کی سمت جانے والی مصروف ترین سڑک پر زیر تعمیربرج کا بڑا حصہ منہدم ہوکر سڑک پر گرگیا۔ شہر حیدرآباد میں انجام دی جانے والی تعمیرات کے سلسلہ میں معیار کا خیال نہ رکھے جانے کے سبب تعمیرات اور تزئین کے کاموں کو انتہائی بری طرح سے نظر انداز کیا جانے لگا ہے جس کے نتیجہ میں صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ شمس آباد کی اس مصروف ترین سڑک پر برج کی تعمیر کے دوران دونوں جانب لگائی گئی برج کے سلاب میں ایک حصہ بری طرح سے گر چکا ہے جس سے برج کی تعمیر کے معیار کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ پروفیسر جئے شنکر زرعی یونیورسٹی کے روبرو گرنے والے اس سلاب کو ہٹانے کیلئے بھی برج کے پاس کوئی موجود نہیں ہے بلکہ برج سے گرنے والے اس تیار سلاب کا یہ حصہ اگر کسی گاڑی پر گرا ہوتا تو کافی نقثان کا خدشہ تھا لیکن یہ حصہ سڑک پر گرنے کے باوجود کئی گھنٹوں تک اسے سڑک سے ہٹانے کے اقدامات تک نہیں کئے گئے ۔ریاستی حکومت کے محکمہ بلدی نظم و نسق کے عہدیداروں کو اس سلسلہ میں خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے جاری تمام فلائی اوور برجس کے تعمیری کاموں کے معیار کا جائزہ لینے کے اقدامات کرنے چاہئے کیونکہ زیر تعمیرفلائی اوور کے بازوؤں میں لگائے جانے والے سلاب اگر سڑک پر چلنے والی گاڑیوں کا ارتعاش برداشت نہ کرپائیں تو جب یہ فلائی اوور کے کام مکمل ہوجائیں گے تو ان کی کیا حالت ہوگی اس کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں جاری تمام تعمیری کاموں کے معیار کی جانچ انتہائی ضروری ہے کیونکہ اگر ان میں کسی قسم کی غفلت ہوتی ہے تو ایسی صور ت میں راہگیروں کے لئے یہ جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔ محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے اگر جاری تعمیری کاموں کے معیار کی جانچ نہیں کی جاتی ہے اور استعمال کئے جانے والے تعمیری اشیاء کے سلسلہ میں رپورٹ طلب نہیں کی جاتی اور شمس آباد فلائی اوور واقعہ میں منہدم ہونے والی حصہ کی جانچ کے سلسلہ میں اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ایسے سنگین لاپرواہی تصور کیا جائے گا کیونکہ فلائی اوور میں استعمال کیا جانے والا ایک حصہ منہدم ہونا کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ یہ ایک انتباہ ہے کہ فلائی اوورکے کاموں کا باریکی سے جائزہ لیا جائے اور اگر فلائی اوور کی تعمیر میں کوتاہی کی جا رہی ہے تو ایسی صورت میں کنٹراکٹر کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے فلائی اوور کو محفوظ بنانے کے اقدامات کئے جائیں۔