عطا پور ، راجندر نگر اور مائیلار دیوپلی میں غیر سماجی عناصر کی سرگرمیاں عروج پر
حیدرآباد ۔ 19 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : شہر حیدرآباد کے عطا پور علاقہ میں ان دنوں غیر سماجی سرگرمیاں عروج پر ہیں ۔ شہر کے نواحی علاقوں میں حقہ سنٹروں پر کارروائی کے بعد اب ایسا ظاہر ہورہا ہے کہ حقہ سنٹرس کے گراہک عطا پور اور راجندر نگر اور مائیلار دیوپلی کا رخ کرنے لگے ہیں چونکہ ان علاقوں بالخصوص عطا پور میں حقہ سنٹرس کی سرگرمیوں پر روک لگانے والا کوئی نہیں ۔ آرام گھر چوراہے سے عطا پور تک رات دیر گئے حقہ سنٹرس کا کاروبار عروج پر ہے اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ان علاقوں میں پولیس کو یہ مسائل نظر نہیں آتے ۔ اور پولیس پر ان حقہ سنٹرس کی سرگرمیوں کو نظر انداز کرنے کے الزامات پائے جاتے ہیں۔ ریاست تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد میں ایک طویل عرصہ تک پولیس کی سخت کارروائیوں کے سبب حقہ سنٹرس بند ہوچکے تھے اور حقہ کلچر عملاً ختم ہوچکا تھا تاہم گذشتہ چند عرصہ سے حقہ سنٹرس کی سرگرمیوں میں پھر اضافہ ہوچکا ہے دو دن قبل کی گئی کارروائی میں ملکاجگیری پولیس نے کئی حقہ سنٹرس کے خلاف کارروائی کو انجام دیا ۔ جس کے بعد اب حیدرآباد میں یہ سرگرمیاں منتقل ہوچکی ہیں ۔ حقہ سنٹرس میں مبینہ نشہ کے کلچر کے غیر تہذیبی و غیر مہذب سرگرمیوں کے الزامات بھی پائے جاتے ہیں ۔ کئی حقہ سنٹرس میں ریسٹورنٹ ، اسنوکر پالر اور عملا جوا کی سرگرمیاں عروج پر ہیں جو نوجوان نسل کے لیے تباہی کے مرکز میں بدلتے جارہے ہیں ۔ نوجوان نسل کی تباہی اور جرائم کی طرف رجحان شہر کو نشہ کی لعنت سے پاک بنانے کے پولیس کے مشن میں بڑی رکاوٹ ثابت ہورہا ہے اور شہری یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ رات گیارہ بجے کے بعد شہر میں ترکاری کی مارکٹ کو کھلا رکھنے کی اجازت نہیں لیکن وہیں شہر میں حقہ سنٹر رات بھر کھلے رہتے ہیں ۔ عطا پور ، راجندر نگر اور مائیلار دیوپلی کے حدود میں پولیس کو چاہئے کہ وہ سخت چوکسی اختیار کریں اور پولیس پر پائے جانے والے الزامات کو غلط ثابت کرتے ہوئے کارروائیوں کا آغاز کریں ۔۔ ع m/b