آرمورمیںرحیم الدین الیاس کانام عوامی خدمت اورسیاسی استقامت کی علامت

   

کانگریس پارٹی کی جانب سے مسلسل نظراندازکرنے پر عوامی حلقوںمیںبے چینی‘ مقامی سیاست پرگہرے اثرات ممکن
آرمور 15 فبروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز )آرمورکی بلدیاتی سیاست میں رحیم الدین الیاس کا نام عوامی خدمت، مستقل مزاجی اور سیاسی استقامت کی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔ تاہم ان کی طویل جدوجہد کے باوجود کانگریس پارٹی کی جانب سے انہیں بارہا نظرانداز کیے جانے کا معاملہ عوامی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔اطلاعات کے مطابق سال 2008 میں جب کانگریس پارٹی نے انہیں ٹکٹ دینے سے انکار کیا تو رحیم الدین الیاس نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے وارڈ نمبر 28 سعید آباد سے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی عوامی مقبولیت کا لوہا منوایا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کامیابی کے بعد انہوں نے کانگریس کی حمایت کرتے ہوئے پارٹی کو بلدیہ میں چیئرمین بنانے میں اہم کردار ادا کیا، اور ان ہی کی تائید سے کانگریس چیئرمین منتخب ہو سکا۔سال 2014 میں بھی انہوں نے کانگریس پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کی کوشش کی، مگر اس مرتبہ بھی انہیں نظرانداز کیا گیا۔ اس کے بعد 2020 کے بلدیاتی انتخابات میں بھی پارٹی کی جانب سے انہیں اہمیت نہیں دی گئی، جس پر انہوں نے وارڈ نمبر 27 سے انتخاب لڑا اور محض ایک ووٹ کے فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جو ان کی مضبوط عوامی بنیاد کا واضح ثبوت سمجھا گیا۔حالیہ بلدیاتی انتخابات میں رحیم الدین الیاس نے ایک بار پھر آزاد امیدوار کے طور پر وارڈ نمبر 27 سے قسمت آزمائی کی اور بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ ان کی اس شاندار جیت کو عوامی اعتماد کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔سیاسی حلقوں میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ چیئرمین کے انتخاب کے سلسلے میں کانگریس کے کامیاب کونسلروں اور چند آزاد امیدواروں کو حیدرآباد بھیجا گیا، تاہم اس مرحلے پر بھی رحیم الدین الیاس کو نظرانداز کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جس سے ان کے حامیوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔شہر کے عوام اور مبصرین کا کہنا ہے کہ رحیم الدین الیاس کی مسلسل عوامی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہیں زمینی سطح پر بھرپور حمایت حاصل ہے۔ ایسے میں ان کی سیاسی خدمات اور عوامی نمائندگی کو نظرانداز کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ معاملہ مقامی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، جبکہ عوامی حلقے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے رحیم الدین الیاس کو مناسب نمائندگی دی جائے۔