آرمینیا۔ آذربائیجان جنگ کے مشرق وسطیٰ میں بھی اثرات

,

   

Ferty9 Clinic

لبنان میں مقیم آرمینیائی باشندے متفکر ۔ کچھ لوگ آبائی وطن کے دفاع کیلئے آرمینیا روانہ ۔ مزید جانے کیلئے تیار

بیروت ۔ آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین جنگ نے مشرق وسطی میں بھی ایک طرح کی ہلچل پیدا کردی ہے اور یہاں کے رہنے والے بھی خود کو اس جنگ میںشامل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ گذشتہ دو ہفتوں سے 50 سالہ لبنانی باشندہ رفیع غزریان مسلسل ٹی وی پر جنگ سے متعلق خبریں دیکھ رہے ہیں۔ وہ آرمینیائی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اوہ بھی اپنے آبائی ملک کا دفاع کرنے ہرچیز چھوڑ کر جنگ میں شامل ہونے کیلئے تیار ہیں۔ لبنان میں آرمینیائی نسل کی خاطر خواہ آبادی ہے اور اس میں کچھ لوگ پہلے ہی آرمینیا کیلئے روانہ ہوچکے ہیں جہاں وہ اپنے ملک کی لڑائی میں حصہ لینا چاہتے تھے ۔ لبنان میں آرمینیائی برادری کے افراد کا کہنا ہے کہ جنگ میں حصہ لینے جاچکے افراد کی تعداد کافی مختصر ہے ۔ لبنانی آرمینیائی باشندوں کیلئے قفقان علاقہ میں جنگ در اصل ان کے اپنے گھر میں جنگ کے برابر ہے ۔ لبنان میں رہنے والے آرمینیائی باشندے اپنی بالکنی میں سرخ ‘ نیلے اور نارنجی رنگ کے آرمینیائی پرچم لہرا رہے ہیں۔ اپنے چھتوں اور کھڑکیوں میں بھی انہوں نے یہ پرچم لہرائے ہیں۔ اس علاقہ میں ترک مخالف نعرے بھی انگریزی اور آرمینیائی زبان میں دیواروں پر تحریر دکھائی دینے لگے ہیں۔ قفقان کے علاقے میں آرمینیا اور آذر بائیجان میں لڑائی 27 ستمبر کو شروع ہوئی ہے جس میں سینکڑوں افراد مارے گئے ہیں۔ یہ علاقہ حالانکہ آذربائیجان کے حدود ہی میں موجود ہے لیکن یہ نسلا آرمینیائی افواج کے کنٹرول میں ہے اور ان افواج کو پڑوسی ملک آرمینیا کی 1994 سے ہی تائید و حمایت حاصل ہے ۔ 1994 میں ایک سال کی جنگ کے بعد دونوں ملکوں کے مابین معاہدہ طئے ہوگیا تھا ۔ اس وقت کی لڑائی میں تقریبا 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ جاریہ لڑائی میں ترکی نے اپنے ہزاروں مخالف شام لڑاکوں کو اپنے حلیف ملک آذربائیجان کی مدد کیلئے روانہ کیا ہے ۔ لبنانی آرمینیائی باشندے اس علاقہ میں آرمینیائی باشندوں کی مدد کیلئے نہ صرف سوشیل میڈیا اور میڈیا میں مہم چلا رہے ہیں بلکہ امداد میں رقومات بھی روانہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ جو امداد یہ لوگ روانہ کر رہے ہیں وہ محدود ہے کیونکہ لبنان بھی فی الحال سنگین معاشی بحران سے گذر رہا ہے اور بینکوں کی جانب سے رقومات بھیجنے پر کنٹرول ہے ۔ دنیا بھر میں لبنان میں سب سے زیادہ آرمینائی برادری مقیم ہے ۔ آرمینیائی باشندوں کا کہنا ہے کہ 1915 میں جو کچھ ہوا تھا اب اس کے اعادہ کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ہم آخری آرمینیائی سپاہی کے زندہ رہنے تک بھی لڑیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی صلیبی جنگ ( مسلمان بمقابلہ عیسائی ) نہیں ہے ۔ بلکہ یہ آرمینیائی وجود کے بقاء کی لڑائی ہے ۔ آرمینیائی باشندوں اور ان کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ جو لوگ آرمینیا جا رہے ہیں یہ ان کا اپنا شخصی فیصلہ ہے اور کسی بھی تنظیم نے برادری کی جانب سے اس تعلق سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ جا رہے ہیں وہ اپنی مرضی کے مالک ہیں اور انہیں کوئی زبردستی وہاں روانہ نہیں کر رہا ہے ۔ در اصل یہ ساری لڑائی آرمینیائی عوام کے خلاف ہی ہے ۔