انقرہ ؍ حیدرآباد: آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان ناگورنو۔ کاراباخ کے مسئلہ پر جاری لڑائی کے درمیان ترکی نے اپنا موقف واضح کیا ہے۔ قونصل جنرل ترکی متعینہ حیدرآباد کی طرف سے ای اے جیاشری رامچندرن نے جاری کردہ بیان میں بتایا کہ اتوار 27 ستمبر کو آرمینیائی مسلح افواج نے آذربائیجان کے دفاعی مقامات اور شہری آبادی میں شدید شلباری شروع کردی۔ یہ بین الاقوامی قانون کے مطابق اور اس کے ساتھ سیز فائر کی صریح خلاف ورزی ہوئی۔ آرمینیائی فورسیس نے آذربائیجان میں بڑے شہروں کو نشانہ بنایا اور شہری آبادی میں زائد از 30 ہلاکتیں پیش آئی۔ جواب میں آذربائیجان نے اپنی آبادی کے تحفظ اور اپنی علاقائی سالمیت کی برقراری کیلئے یو این چارٹر کے آرٹیکل 51 کی مطابقت میں کارروائی کی۔ ترک قونصل جنرل کا کہنا ہیکہ آرمینیا ناگورنو۔ کاراباخ جھگڑے کا بات چیت کے ذریعہ پرامن حال نہیں چاہتا ہے۔ چنانچہ ترکی نے آذربائیجان کی ٹھوس سیاسی اور اخلاقی تائید شروع کی جو جاری رکھی جائے گی۔ تاہم جاریہ لڑائی میں ترکی کوئی فریق نہیں ہے۔
