تلنگانہ کے ساتھ معاہدہ کی تکمیل، 5 لاکھ تک ہیلت انشورنس
حیدرآباد۔ تلنگانہ کے شہریوں کو مرکز کی آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت دواخانوں میں علاج کی مفت سہولتوں کا آغاز ہوچکا ہے اور ریاستی حکومت اور مرکز کے درمیان اس سلسلہ میں یادداشت مفاہمت مکمل ہوچکی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے گذشتہ دو برسوں سے مرکز کی آیوشمان بھارت اسکیم کو اختیار نہیں کیا تھا لیکن کورونا کیسس میں اضافہ اور خانگی دواخانوں میں لوٹ کھسوٹ کو دیکھتے ہوئے حکومت نے آروگیہ شری کے ساتھ آیوشمان بھارت کو اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیشنل ہیلت پالیسی 2017 کی سفارشات کے تحت مرکز نے یہ اسکیم متعارف کی تھی۔ تلنگانہ کومت نے اگرچہ کورونا کے علاج کو آروگیہ شری کے تحت شامل نہیں کیا ہے لیکن مرکزی اسکیم کے تحت اس کی سہولت دی گئی ہے۔ آروگیہ شری کے تحت کوئی بھی خاندان 2 لاکھ سے 13 لاکھ روپئے کے علاج کے اخراجات تک انشورنس حاصل کرسکتا ہے۔ اس اسکیم میں 949 مختلف علاج کی علاج کی سہولت حاصل ہے۔ سطح غربت سے نیچے زندگی گذارنے والے افراد اور سفید راشن کارڈ ہولڈرس اس اسکیم سے استفادہ کے اہل ہیں۔ مرکز کی آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت غریب خاندان سالانہ 5 لاکھ روپئے تک کا علاج کراسکتے ہیں۔ دونوں اسکیمات کے انضمام سے تلنگانہ میں غریب عوام کو سہولت ہوگی۔ دونوں اسکیمات کیلئے حکومت نے 22 ہزار سرکاری اور خانگی دواخانوں کو شامل کیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تلنگانہ میں دونوں ہیلت اسکیمات سے 26 لاکھ خاندان استفادہ کرپائیں گے جن کی تعداد 1.3 کروڑ افراد پر مشتمل ہے۔ مرکزی اسکیم کو 33 ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں نے اختیار کیا ہے۔