آروگیہ شری بلز کی عدم اجرائی سے ہاسپٹلس بند ہونے کے قریب

   

گرین چیانل سے بلز کی اجرائی کا دعویٰ ، زمین پر ادائیگی صفر، ہریش راؤ کا الزام
حیدرآباد ۔26 ۔ مارچ (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ہریش راؤ نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آروگیہ شری کے بلز کی عدم اجرائی کی وجہ سے ہاسپٹلس بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ آروگیہ شری اسکیم کے بلز گرین چیانل کے ذریعہ جاری کئے جارہے ہیں لیکن حقیقت میں فنڈس جاری نہیں ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادائیگیوں میں تاخیر کے بعد کارپوریٹ ہاسپٹلس آروگیہ شری کے تحت بڑی سرجری کرنے سے گریز کر رہے ہیں جبکہ چھوٹے ہاسپٹلس کو بند ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد صرف چند ہی افراد کے علاج کے لئے زیادہ رقم فراہم کی گئی جبکہ بی آر ایس کے دور حکومت میں سینکڑوں مریضوں کو 5 لاکھ سے 15 لاکھ روپئے تک مالی امداد دی گئی تھی ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت واضح کرے کہ آروگیہ شری کے تحت کتنے بلز زیر التواء ہے اور ان کی ادائیگی کب تک کی جائے گی۔ ہریش راؤ نے اسمبلی میں مائیک نہ دیئے جانے پر بھی ناراضگی ظاہر کرکے کہا کہ حکومت انہیں حقائق پیش کرنے سے روک رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آروگیہ شری اخراجات میں اضافہ کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے جبکہ یہ اضافہ آبادی اور طبی اخراجات میں فطری اضافہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 میں ماہانہ خرچ 32 کروڑ روپئے تھا جو 2023 تک بڑھ کر 60 کروڑ روپئے ہوگیا اور اب 89 کروڑ روپئے ماہانہ خرچ کیا جانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے جو کوئی نئی کامیابی نہیں ہے ۔ ہریش راؤ نے یہ بھی الزام لگایا کہ موجودہ حکومت پچھلی بی آر ایس حکومت کے دور میں منظور شدہ ہاسپٹلس کی تعمیر میں تاخیر کر رہی ہے۔ اگر بی آر ایس اقتدار میں ہوتی تو یہ تمام منصوبے مکمل ہوچکے ہوتے اور عوام کو بہتر طبی سہولیات مل رہی ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبہ میں حکومت کے دعوے اور زمینی حقیقت میں واضح فرق ہے اور عوام کو درپیش مسائل کا فوری حل نکالنا ضروری ہے۔2