آروگیہ شری کے تحت علاج کی حد 5 لاکھ روپئے کرنے کی تجویز

   

چیف منسٹر کی عہدیداروں سے مشاورت، موجودہ حد 2 لاکھ سے علاج میں دشواریاں
حیدرآباد۔/21 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں غریب عوام کو مفت علاج کی سہولت فراہم کرنے کیلئے حکومت نے آروگیہ شری کے تحت علاج کی حد میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق آروگیہ شری کے تحت فی الوقت 2 لاکھ روپئے تک علاج مفت حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ حکومت اسے 5 لاکھ روپئے اضافہ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ غریب عوام کو کئی امراض کا مفت علاج یقینی ہوسکے۔ ریاست میں مختلف گوشوں سے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ علاج کی حد میں اضافہ کیا جائے کیونکہ خانگی دواخانوں میں عوام کو سنگین امراض کے مکمل علاج میں 2 لاکھ کی حد کافی نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نیٹ ورک ہاسپٹلس سے اس سلسلہ میں تفصیلات حاصل کررہی ہے تاکہ ان کی تجاویز کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جاسکے۔ حالیہ برسوں میں کسی بھی مرض کے علاج کیلئے خرچ میں کافی اضافہ ہوچکا ہے جس کے نتیجہ میں غریب عوام قرض حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے علاج کی حد میں اضافہ کے مسئلہ پر وزراء اور عہدیداروں سے بات چیت کی ہے۔اس فیصلہ کے نتیجہ میں ایک سال میں اگر ایک خاندان کے دو افراد کو علاج کی ضرورت پڑے تو انہیں اسکیم سے فائدہ ہوگا۔ آروگیہ شری کے تحت فی الوقت 1020 مختلف علاج کی سہولت ہے جبکہ مرکزی حکومت کی آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت 1668 مختلف علاج کئے جاتے ہیں۔ حکومت نے عوام کے دباؤ کے تحت جاریہ سال مرکزی اسکیم کو تلنگانہ میں اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں اسکیمات پر بیک وقت عمل کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آروگیہ شری کے تحت 79 لاکھ افراد جبکہ مرکزی اسکیم کے تحت 30 لاکھ خاندانوں کا احاطہ کیا گیا۔ آروگیہ شری اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں حکومت کو سب سے بڑی رکاوٹ کارپوریٹ ہاسپٹلس سے ہے جو بقایا جات کی عدم ادائیگی کا بہانہ بناکر آروگیہ شری مریضوں کو قبول کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت نیٹ ورک ہاسپٹلس کو آروگیہ شری کے بقایا جات کی اجرائی میں تاخیر کررہی ہے۔ ہاسپٹلس کا کہنا ہے کہ اگرچہ علاج کی حد میں اضافہ سے عوام کو فائدہ ہوگا لیکن حکومت کو بقایا جات بروقت جاری کرنے چاہیئے۔ر