نئی دہلی ۔ 28 ۔ ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کو خصوصی موقف فراہم کرنے والے دستوری آرٹیکل 370 کی تنسیخ سے متعلق مرکز کے اقدام کے خلاف بڑھتے ہوئے قانونی چیلنجوں پر مبنی درخواستوں پر سپریم کورٹ میں منگل یکم اکتوبر سے سماعت شروع ہوگی ۔ اس کیلئے جسٹس این وی رمنا کی قیادت میں عدالت عظمیٰ نے پانچ ججوں پر مشتمل دستوری بنچ تشکیل دی ہے ۔ بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس ایس کے کول، جسٹس آر سبھاش ریڈی ، جسٹس بی آر گواٹی اور جسٹس سوریہ کانت شامل ہیں ۔ ذرائع نے کہا کہ منگل سے مقدمہ کی سماعت شروع ہوگی ۔ پانچ رکنی بنچ دستوری دفعات کی تنسیخ اور مابعد کے صدارتی احکام کے دستوری جواز کا جائزہ لے گی ۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی قیادت میں ایک بنچ نے 28 اگست کو یہ مقدمہ پانچ رکنی دستوری بنچ کے سپرد کردیا تھا ۔ جموں و کشمیر کے خصوصی موقف سے متعلق دستوری دفعہ 370 کی تنسیخ اور اس ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تشکیل دینے مکرز کے فیصلے کے خلاف متعدد درخواستیں دائر کی گئی تھیںجن م یں اس اقدام کے دستوری و قانونی جواز کو چیلنج کیا گیا ہے۔ نیشنل کانفرنس کی طرف سے بھی درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ سجاد لون زیر قیادت جے کے پیپلز کانفرنس اور دیگر کئی افراد بھی اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے درخواستیں دائر کرچکے ہیں۔ ان میں سب سے پہلے درخواست داخل کرنے والے ایڈوکیٹ ایم ایل شرما بھی شامل ہیں۔