وینکٹ پارسا
کشمیر کے حُسن، اس کی خوبصورتی اور وہاں کے حسین قدرتی مناظر کے بارے میں شاعروں نے اپنی شاعری ، نغمہ نگاروں نے اپنے نغموں اور گلوکاروں نے اپنے گانوں میں بہت کچھ کہا ہے۔ خاص طور پر شاعروں نے تو کشمیر کو ’’جنت بے نظیر‘‘ کہا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ کشمیر کے بارے میں جو شاعرانہ خواب ہے، وہ چکنا چور ہوچکا ہے۔ ہندوتوا بریگیڈ نے کشمیر کو خصوصی موقف عطا کرنے والی دستور کی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا جو ایجنڈہ تیار کیا، اس ایجنڈے نے ہمارے وطن عزیز کا 70 برسوں سے زائد عرصہ تک تعاقب کیا اور ملک کو پریشان کر رکھا۔ اب جبکہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے، عدالت ِ عظمیٰ کے اس فیصلے کے تناظر میں اسے بند ہونا چاہئے۔ جس طرح مودی حکومت نے کشمیر کے خصوصی موقف سے متعلق دفعہ 370 کی منسوخی کیلئے اپنے قدم آگے بڑھائے ہیں۔ اس کے پیچھے اس کی جو نیت اور ارادے تھے، اور اس بارے میں سب واقف ہیں۔ جہاں تک سپریم کورٹ کا سوال ہے، یہ سرزمین ہند کی اعلیٰ ترین عدالت ہے، اس کے ہر فیصلے کو قانون کا درجہ حاصل ہے۔ اس طرح ہندوتوا بریگیڈ کی جانب سے پیدا کردہ تنازعہ کو ہمیشہ کیلئے ختم ہونا چاہئے جس نے ملک کے سیاسی منظر نامہ پر سات دہوں سے زائد عرصہ تک اپنا سایہ ڈالے رکھا۔ نتیجہ میں ایک سیاسی تنازعہ اور باالفاظ دیگر ایک سیاسی دراڑ کے وجود میں آنے کا باعث بنا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دستور کی دفعہ 370 کی منسوخی آخر کیوں حکمراں طبقہ یا جماعت کیلئے ایک بہت بڑا مسئلہ اور تنازعہ بنی ہوئی تھی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ اس کی مسلم دشمنی اور مسلمانوں سے بدترین تعصب ہے۔ اسی تعصب سے اسی دشمنی کے باعث ہندوتوا بریگیڈ نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو اپنا ایجنڈہ بنائے رکھا۔ اگر اس کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس فیصلے میں عقل کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔ یہ کتنی عجیب اور حیران کن بلکہ پریشان کن بات ہے کہ ہندوتوا بریگیڈ جموں و کشمیر کو خصوصی موقف یا درجہ عطا کرنے والی دستور کی دفعہ 370 کی شدت سے مخالفت کرتی ہے لیکن دفعہ 370 کی طرح دستور کی دفعہ 371 (A to 1) کے تحت بے شمار ریاستوں بشمول ہماچل پردیش، شمال مشرقی ریاستوں، کرناٹک اور تلنگانہ میں حیدرآباد ۔ کرناٹک علاقوں کو خصوصی موقف کی تائید کرتی ہے۔ مذکورہ دفعات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا تلنگانہ اور کرناٹک کے ایجنسی علاقوں پر اطلاق عمل میں لایا جاتا ہے۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا مودی حکومت مذکورہ ریاستوں اور علاقوں کو جہاں دفعہ 371 کے تحت خصوصی موقف حاصل ہے، ایک صدارتی حکم نامہ کے ذریعہ ان سے بھی دستبرداری اختیار کرے گی؟ ان کی بھی منسوخی عمل میں لائے گی۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کیلئے مودی حکومت نے جو طریقہ کار اپنایا، وہ کسی بھی طرح قابل اعتبار نہیں تھا۔ وہ خود کشمیریوں کو یہ قائل نہیں کرواسکی کہ حکومت کا اقدام کشمیر کی ترقی کی سمت ایک اور قدم ثابت ہوگا۔ اس سے کشمیر میں ترقی ہوگی۔ فی الوقت یہ مسئلہ داؤ پر لگاؤ ہوا ہے کہ آیا دفعہ 370 کی منسوخی کے معاملے میں وضع کردہ آئینی طریقہ کار پر عمل کیا گیا یا نہیں؟ واضح طور پر دستور ساز اسمبلی کو منظو ری حاصل کرنے کیلئے تشکیل دینا پڑے گا کیونکہ یہ ایک سادہ سی وجہ ہے کہ صرف دستور ساز اسمبلی ہی اس کی منظوری دے سکتی ہے، نہ کہ اسٹیٹ اسمبلی۔ یہاں ایک دلچسپ بات ہے کہ اس معاملے میں ریاستی اسمبلی نے بھی دفعہ 370 کی منسوخی کی منظوری نہیں دی بلکہ پارلیمنٹ نے ریاستی اسمبلی تحلیل کرنے اور ریاست جموں و کشمیر میں صدر راج نافذ کرنے کے بعد خود کو ریاستی اسمبلی سے برتر ظاہر کرتے ہوئے دفعہ 370 کو منسوخ کیا (جن حالات میں دفعہ 370 کی منسوخی عمل میں لائی گئی۔ ان پر مختلف گوشوں سے نہ صرف احتجاج کیا گیا بلکہ حکومت کی نیت اور ارادوں پر شکوک و شبہات بھی ظاہر کئے گئے)۔ آپ کو بتادیں کہ دستور کی دفعہ 3 واضح طور پر کہتی ہے کہ مرکز کے زیرانتظام علاقہ ایک ریاست سے نکالا جاسکتا ہے یا الگ کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر چندی گڑھ، ایک مرکزی زیرانتظام علاقہ ہے جسے پنجاب سے نکالا گیا جبکہ پنجاب کا وجود ایک ریاست کے طور پر برقرار ہے۔ کم از کم ایک علاقہ (خطہ) ریاست ہونا چاہئے جبکہ دوسرے حصہ کو مرکزی زیرانتظام علاقہ میں تبدیل کردیا گیا۔ کشمیر میں ریاست کو پوری طرح تقسیم کردیا گیا اور اس میں سے دو مرکزی زیرانتظام نکالے گئے، لداخ کو مرکزی زیرانتظام علاقہ بنایا جاسکتا تھا جبکہ جموں و کشمیر کو ریاست کے طور پر برقرار رکھا جاسکتا تھا تاہم عدلیہ سے یہ امید کی جارہی تھی کہ وہ بعض اُمور کی وضاحت کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ویسے بھی سپریم کورٹ میں مقدمات کی بہتات تھی جس سے کئی ایک ہائی پروفائیل مقدمات جیسے شہادت بابری مسجد مقدمہ، طلاق ثلاثہ کو فوجداری اور مجرمانہ فعل قرار دیا جانا، بلقیس بانو ریپ کیس، شہریت ترمیمی قانون ( سی اے اے) جیسے کیسیس شامل تھے۔ ایسے مذکورہ تمام کیسوں میں اور دفعہ 370 کی منسوخی کیلئے مودی حکومت نے کس طرح قابل اعتراض طریقہ کار اختیار کیا ۔ وہ سب کے سامنے ہے۔ 26 اکتوبر 1947ء کو مہاراجہ ہری سنگھ نے جموں و کشمیر کے ہندوستان کے الحاق کے معاہدہ پر دستخط کئے تھے اور اس وقت جموں و کشمیر کو خصوصی موقف عطا کرنے سے اتفاق کیا گیا اور اس معاہدہ کے تحت ریاست کو دفعہ 370 کے تحت خصوصی موقف عطا کیا گیا۔ بہرحال چاہئے جو کچھ بھی ہو یہ بیہودہ تنازعہ مزید برقرار نہ رہے۔ امید ہے کہ عدالت عظمی کا فیصلہ اس ناخوشگوار ایپی سوڈ کا خاتمہ کردے گا اور جسے قوم کے بہتر مفاد میں ختم بھی ہونا تھا۔ اگرچہ کانگریس تنازعہ کا مرکز بنی ہوئی تھی لیکن وہ اس مقدمہ میں درخواست گذار تھی نہ ہی کسی ایسی درخواستوں میں دعویدار تھی جس کے ذریعہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ان حالات میں اس بات کی توقع نہیں کہ کانگریس سپریم کورٹ فیصلہ پر کسی بھی قسم کا ازسرنو جائزہ کی خواہاں ہوگی، حالانکہ کانگریس نے بڑی دیانت داری کے ساتھ سپریم کورٹ فیصلہ کے بعض حصوں سے عدم اتفاق کیا ہے۔ سابق مرکزی وزیر اور سینئر کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے واضح طور پر کہا کہ جموں و کشمیر کے ہندوستان سے الحاق کے ساتھ ہی جموں و کشمیر ہندوستان کا ایک جزلاینفک ہے اور جموں و کشمیر کے عوام ہندوستانی شہری ہیں اور ہم جموں و کشمیر کی سلامتی، امن و امان ، ترقی اور اس کے عوام کی خوشحالی کیلئے کام کرنے کے پابند عہد ہیں۔ کانگریس نے ایسا ہی موقف 5 اگست 2019ء کو اپنایا تھا جب مودی حکومت نے ریاست جموں و کشمیر کو دو مرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کردیا تھا۔ 6 اگست 2019ء کو کانگریس ورکنگ کمیٹی نے ایک قرارداد منظور کی جس میں صاف طور پر کہا گیا تھا کہ جس طرح یکطرفہ عجیب و غریب اور پوری طرح غیرجمہوری انداز میں دستور کی دفعہ 370 منسوخ کی گئی اور دستوری دفعات کی غلط تشریح کرتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر کو تقسیم کیا گیا اس پر کانگریس ورکنگ کمیٹی اظہار تاسف کرتی ہے۔ حکومت نے دستوری قانون، ریاستوں، ان کے حقوق، پارلیمانی طریقہ کار اور جمہوری حکمرانی کے ہر اصول کو پامال کیا۔
ایک بات ضرور ہے کہ ہندوتوا بریگیڈ نے دفعہ 370 کو ایسے پیش کیا جیسے کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے مسلمانوں کی ، خوشامدی کی ہندو بریگیڈ نے یہ تاثر دینے کی بھی کوشش کی کہ 370 دراصل پنڈت جواہر لال نہرو کی ایک سازش تھی۔ انہوں نے اس سازش کے تحت وادیِٔ کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقہ کو خصوصی موقف عطا کیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جموں و کشمیر کو خصوصی موقف پنڈت جواہر لال نہرو نے نہیں دیا بلکہ ہندوتوا بریگیڈ نے انہیں (پنڈت نہرو) کو مسلمانوں کی خوشامدی پر مبنی پالیسی کے ہیرو کے طور پر پیش کیا جبکہ مسلم اکثریتی وادی کشمیر کو خصوصی موقف دو ہندوؤں مہاراجہ جموں و کشمیر ہری سنگھ اور سرلال مکھرجی نے دیا جو الہ آباد ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج تھے جو 1935ء تا 1940ء جموں و کشمیر کے وزیر قانون و مال (ریوینیو) کے عہدہ پر فائز تھے۔ 26 اکتوبر 1947ء کو جب مہاراجہ ہری سنگھ نے جموں و کشمیر کو خصوصی موقف عطا کئے جانے کی شرط پر ہندوستان سے الحاق سے متعلق معاہدہ پر دستخط کئے۔ عبوری ہندوستانی حکومت کی جانب سے اس بات کا اعلان کیا گیا کہ وہ جموں و کشمیر کو دستور کی دفعہ 370ء کے تحت خصوصی موقف عطا کرنے کیلئے وہ پابند عہد ہے۔ اس کے علاوہ پنڈت جواہر لال نہرو کی غیرموجودگی میں دو ہندوؤں سردار پٹیل نے دستور ساز اسمبلی میں دفعہ 370 پیش کیا جس میں اتم گوپالا سوامی ائنگر نے اعانت کی اور دستور ساز اسمبلی نے 26 نومبر 1948ء کو مسودہ دستور کو قطعیت دی اور 26 جنوری 1950ء کو دستور منظور کیا گیا۔ 1952ء کے دہلی معاہدہ میں بھی جموں و کشمیر کو قابل لحاظ خود مختاری دی گئی۔
٭٭٭