جموں و کشمیر: تین سال قبل کل ہی کے دن ہندوستان کی پارلیمنٹ نے جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو منسوخ کرکے اسے مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں جموں کشمیر اور لداخ میں تقسیم کیا۔ علاقائی سیاسی جماعتوں نے مرکزی سرکار کے اس فیصلے کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ اس قدم سے جموں و کشمیر کے لوگوں کے حقوق چھین لئے گئے ہیں۔ تاہم مرکزی سرکار کا کہنا تھا کہ اس قدم سے جموں و کشمیر کے عوام کے ان حقوق کو بحال کیا جائے گا جن سے وہ آج تک محروم رکھے گئے تھے۔ دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی عمل میں لانے کے وقت مرکزی سرکار نے کہا کہ یہ دفعات جموں و کشمیر کی مجموعی ترقی میں شدید رکاوٹ کا باعث بنے تھے کیونکہ دفعہ 370 کی وجہ سے عوام کے مفادات والی کئی سکیمیں جموں و کشمیر میں لاگو نہیں ہو پارہی تھیں۔