بی آر ایس ارکان نے اسپیکر کے پوڈیم کو گھیر لیا، آر ٹی سی کی تباہی کے ذمہ دار آج مگر مچھ کے آنسو بہارہے ہیں: ریونت ریڈی
انضمام کا مسئلہ حکومت کے زیر غور، خواتین کو مفت سفر کے لیے ماہانہ 300 کروڑ کی مدد
حیدرآباد۔/24 جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں آر ٹی سی کے حکومت میں انضمام کے مسئلہ پر گرما گرم مباحث ہوئے۔ بی آر ایس ارکان اسمبلی نے حکومت سے واضح تیقن کا مطالبہ کیا جبکہ حکومت کا موقف تھا کہ یہ معاملہ زیر غور ہے۔ انضمام کے مسئلہ پر حکومت اور بی آر ایس ارکان کے درمیان تلخ مباحث ہوئے اور ایک مرحلہ پر چیف منسٹر ریونت ریڈی کو مداخلت کرنی پڑی۔ اسپیکر پرساد کمار کی جانب سے ہریش راؤ کو مائیک نہ دیئے جانے پر بی آر ایس کے ارکان احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر کے پوڈیم تک پہنچ گئے۔ بی آر ایس کے احتجاجی ارکان ہاتھوں میں پلے کارڈس تھامے ہوئے آر ٹی سی ملازمین کے ساتھ انصاف کی مانگ کررہے تھے۔ اسپیکر پرساد کمار نے احتجاج کے دوران ہی وقفہ سوالات کے اختتام کا اعلان کردیا اور سابق ارکان کو خراج پیش کرنے کیلئے تعزیتی قرارداد پیش کی۔ بی آر ایس ارکان کے احتجاج کے دوران چائے کے وقفہ کا اعلان کردیا گیا۔ احتجاجی ارکان ایوان سے نعرے لگاتے ہوئے اسمبلی کے باہر نکلے۔ وقفہ سوالات میں بی آر ایس کے ہریش راؤ اور دیگر ارکان نے آر ٹی سی کے حکومت میں انضمام کے مسئلہ پر سوال کیا تھا۔ وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے جواب میں بتایا کہ سابق حکومت نے آر ٹی سی ملازمین کو سرکاری خدمات میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا اور لا ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 15 ستمبر 2023 کو گزٹ جاری کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 29 ستمبر 2023 کو جی او ایم ایس 41 کے تحت کمیٹی تشکیل دی گئی تاکہ انضمام کے طریقہ کار اور فوائد کا تعین کیا جاسکے۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کے حکومت میں انضمام میں کوئی تاخیر کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ معاملہ حکومت کے زیر غور ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں آر ٹی سی کے انضمام کا وعدہ کیا تھا اور آٹھ ماہ گذرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ وزیر ٹرانسپورٹ کے جواب کے بعد جب ہریش راؤ واک آؤٹ کیلئے احتجاج درج کرانا چاہتے تھے اسپیکر نے اجازت نہیں دی۔ اسپیکر پر ہریش راؤ کی تنقید کا سختی سے نوٹ لیتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے مداخلت کی اور کہا کہ سابق میں وزیر مقننہ رہے ہریش راؤ کیلئے مناسب نہیں کہ اسپیکر پر تنقید کریں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس نے دس برسوں میں آر ٹی سی ملازمین کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی اور ان کی یونینوں کو ختم کردیا گیا تھا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اسپیکر نے سی پی آئی رکن سامبا سیوا راؤ کو اظہار خیال کا جو موقع دیا ہے وہ درست ہے کیونکہ کوئی بھی سوال ایوان کی ملکیت ہوتا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کیلئے ہمیشہ جدوجہد کرنے والی سی پی آئی رکن کو اظہار خیال سے روکنا ٹھیک نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آر ٹی سی کو بچانے کیلئے حکومت کے پاس واضح حکمت عملی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونین قائدین کو ہٹانے کیلئے سابق حکومت نے آر ٹی سی یونینوں کو ختم کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی کی تباہی کیلئے جو ذمہ دار رہے آج وہ مگر مچھ کے آنسو بہارہے ہیں۔ ہریش راؤ نے آر ٹی سی کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے بارے میں سوال کیا۔ وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین نے 50 دنوں تک سابق میں ہڑتال کی تھی لیکن بی آر ایس حکومت نے ان کے مسائل نظرانداز کردیئے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو مفت سفر کی سہولت کے تحت حکومت ماہانہ 300 کروڑ معاوضہ ادا کررہی ہے۔ آر ٹی سی کیلئے نئی بسیں خریدی گئیں اور مزید 3035 ملازمین کے تقررات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خسارہ سے ادارہ کو نکالنے کیلئے آر ٹی سی ملازمین بہتر طور پر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے آر ٹی سی کو ختم کرنے کی سازش کی تھی۔ کانگریس برسراقتدار آنے کے بعد 280 کروڑ کے بقایا جات ادا کئے گئے۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ سابق حکومت نے ایک ریٹائرڈ عہدیدار کو منیجنگ ڈائرکٹر مقرر کرتے ہوئے آر ٹی سی کو ختم کرنے کی سازش کی تھی۔1