آرے کالونی میں مزید درخت نہ کاٹیں : سپریم کورٹ

,

   

نئی دہلی۔ 7 اکتوبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے پیر کو ممبئی کی آرے کالونی میں درختوں کی کٹائی پر اگلے حکم تک کے لئے روک لگا دی۔جسٹس ارون مشرا اور جسٹس اشوک بھوشن کی خصوصی بنچ نے درخواست گزار رشبھ رنجن کی جانب سے سینئر وکیل گوپال سبرامنیم اور سنجے ہیگڑے کی دلیلیں سننے کے بعد معاملہ کو جوں کا توں برقرار رکھنے کا حکم دیا۔معاملے کی اگلی سماعت 21 اکتوبر کو ہوگی۔قانون کے طلبہ کی طرف سے سینئر وکیل سنجے ہیگڑے نے دلائل پیش کی جب کہ کچھ ماحولیاتی کارکنوں کی طرف سے گوپال شنکر نارائن نے جرح کی۔ انہوں نے کہا کہ آرے جنگلوں کو حساس علاقہ قرار دینے کے سوال پر عدالت عظمی میں عرضی زیر التوا ہے ۔خصوصی بنچ نے جوں کا توں حالت برقرار رکھنے کا حکم اس وقت دیا جب مہاراشٹر حکومت کی طرف سے پیش سالسٹر جنرل تشار مہتا نے دلیل دی کہ اب آرے میں درختوں کی کٹائی کی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جتنی ضرورت ہے اتنے درخت کاٹے جاچکے ہیں۔ ہم یقین دہانی کراتے ہیں کہ اب مزید درخت نہیں کاٹے جائیں گے ۔ ہم سب ماحولیات پر پڑنے والے منفی اثرات کے تئیں فکر مند ہیں۔مہاراشٹرا ریل کارپوریشن کی طرف سے سینئر وکیل منندر سنگھ پیش ہوئے ۔قانون کے طلبہ نے خط میں لکھا ہے کہ بامبے ہائی کورٹ کی طرف سے درختوں کو جنگل کے زمرے میں رکھنے سے انکار کردیا گیا اور درختوں کی کٹائی کے سلسلے میں عرضیاں مسترد کردی گئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت بہت جلد بازی میں یہ فیصلہ کررہی ہے ۔ سماجی اور ماحولیاتی کارکنوں کے ساتھ ساتھ معروف شخصیات بھی میٹرو شیڈ کے لئے آرے کالونی کے درختوں کی کٹائی کی مخالفت کررہی ہیں۔