آر ایس ایس اور بی جے پی کو میں کھٹک رہا ہوں: ریونت ریڈی

,

   

دستور کو تبدیل کرنے اور تحفظات ختم کرنے کی سازش کا پردہ فاش کرنے پر انتقامی کارروائی

حیدرآباد۔ یکم؍ مئی (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لئے کھٹک رہے ہیں۔ انہوں نے ریزرویشن ختم کرنے کے ان کے خفیہ ایجنڈہ کا پردہ فاش کیا ہے جس کا بدلہ لینے کے لئے مرکزی حکومت نے ان کے خلاف دہلی میں مقدمہ درج کرایا ہے جس سے وہ ڈرنے گھبرانے والے نہیں ہیں بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے بی جے پی کے خفیہ ایجنڈہ کو منظر عام پر لاتے رہیں گے۔ آج شام اپنی قیام گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت بی جے پی نے ’اب کی بار 400 پار‘ کا نعرہ دیا ہے۔ اس سے پہلے ’کانگریس مُکت بھارت‘ کا نعرہ دیا تھا۔ ملک کی عوام جانتی ہے کہ پسماندہ طبقات کو کانگریس پارٹی نے ہی تحفظات فراہم کیا ہے جو آر ایس ایس اور بی جے پی کو پسند نہیں ہے۔ ان تحفظات کو برخواست کرنے کے لئے پہلے ’کانگریس مُکت بھارت‘ اور اس مرتبہ ’اب کی بار 400 پار‘ کا نعرہ دیا گیا ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کو یقین ہے کہ اگر کانگریس کامیاب ہو جاتی ہے تو ان کے خفیہ ایجنڈہ کو شکست ہو جائے گی، اس لئے وہ مختلف حربے استعمال کرتے ہوئے ملک میں دستور کو تبدیل کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ جب انہوں نے حقائق کو منظر عام پر لایا تو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے دہلی میں ان کے خلاف مقدمہ درج کروایا اور دہلی کی پولیس نے حیدرآباد پہنچ کر انہیں نوٹس دے دی جس سے وہ ڈرنے گھبرانے والے نہیں ہیں۔ دستور کو تبدیل کرنے کے لئے واجپائی کے دور سے کوشش کی جارہی ہے۔ دستور میں ترمیم کے لئے جب واجپائی وزیر اعظم تھے تبھی گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔ سال 2000 میں وینکٹ چلیا کمیشن تشکیل دیا گیا تھا جس میں 10 ارکان کو شامل کیا گیا تھا۔ 2002 میں وینکٹ چلیا کمیشن نے اپنی رپورٹ پیش کی جس کو خفیہ رکھا گیا۔ اب اس خفیہ ایجنڈہ پر عمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آر ایس ایس کے لوگ ریزرویشن کے خلاف ہیں۔ آر ایس ایس رہنماؤں کو خوش کرنے کے لئے نریندر مودی دستور میں ترمیم کے ساتھ تحفظات کو ختم کرنے کے ایجنڈہ پر کام کررہے ہیں۔ کانگریس نے او بی سی کے ریزرویشن میں اضافہ کے لئے منڈل کمیشن تشکیل دیا تھا جس کی آر ایس ایس اور بی جے پی نے مخالفت کی تھی۔ کانگریس کے قائد راہول گاندھی نے ’جس کی جتنی آبادی اس کی اتنی حصہ داری‘ کا نعرہ دیا ہے۔ کانگریس حکومت قائم ہونے پر ذات پات پر مبنی مردم شماری کرانے کا اعلان کیا ہے۔ تلنگانہ میں کانگریس کی حکومت قائم ہونے کے بعد اس سروے کے لئے اسمبلی میں قرارداد بھی منظور کی گئی جس سے بی جے پی اور آر ایس ایس آگ بگولا ہوگئے ہیں اور ان سے انتقام لینے کی کوشش کررہے ہیں۔ کانگریس پارٹی دیش اور دستور کو بچانے کی جدوجہد کررہی ہے اور پسماندہ طبقات کو نہ صرف تحفظات فراہم کرے گی بلکہ ان تحفظات میں اضافہ بھی کرے گی۔ ملک اور تلنگانہ کے عوام بی جے پی کے خفیہ ایجنڈہ کو ووٹوں کے ذریعہ لوک سبھا کے انتخابات میں شکست دیتے ہوئے کانگریس کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں۔ 2