متنازعہ مسائل کو انتخابی ایجنڈہ بنانے ، 17 ستمبر کو زیادہ اہمیت دینے پارٹی منشور کی تیاری کا جائزہ
حیدرآباد ۔ 23 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ کے انتخابات میں بی جے پی کو کامیاب بنانے کے لیے آر ایس ایس میدان میں کود پڑی ہے ۔ آر ایس ایس کے سینئیر قائدین نے حیدرآباد میں بی جے پی کے قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے انتخابی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے بی جے پی کو کامیابی حاصل کرنے کے لیے چند مشورے اور تجاویز بھی پیش کئے ہیں ۔ بی جے پی انتخابی امور تلنگانہ کے انچارج سنیل بنسل تلنگانہ بی جے پی کے صدر مرکزی وزیر جی کشن ریڈی ، ڈاکٹر لکشمن اور بنڈی سنجے کے علاوہ دوسرے قائدین نے اس اجلاس میں شرکت کی ہے ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ آر ایس ایس کے قائدین نے تلنگانہ میں ہندوتوا کے ماحول کو فروغ دینے اور ہندو ووٹرس کو متحد کرنے کے لیے متنازعہ مسائل کو اچھالتے ہوئے سیاسی ماحول بی جے پی کے لیے سازگار بنانے کی بی جے پی قائدین کو ہدایت دی ہے ۔ جس میں خاص طور پر 17 ستمبر سقوط حیدرآباد کو زیادہ اہمیت دینے اور حضور نظام و رضاکاروں کے ظلم و ستم کو اہم موضوع بنانے کے ایجنڈے کو قطعیت دی گئی ۔ حالیہ ایک ہفتہ کے دوران آر ایس ایس اور بی جے پی قائدین کا یہ دوسرا اجلاس منعقد ہوا ہے ۔ آر ایس ایس کے قائدین نے بتایا کہ ریاست کے 119 اسمبلی حلقوں میں آر ایس ایس کے 10 ہزار سے زیادہ کارکن کیمپ کرتے ہوئے بی جے پی کی کامیابی کے لیے راہ ہموار کررہے ہیں ۔ جن اسمبلی حلقوں میں بی جے پی نے کامیابی حاصل کی ہے اس کو زیادہ اہمیت دی جارہی ہے ساتھ ہی جن اسمبلی حلقوں میں بی جے پی کا 2018 کے اسمبلی حلقوں دوسرا موقف رہا ہے وہاں مزید زیادہ توجہ دیتے ہوئے بی جے پی کے لیے ماحول سازگار بنایا جارہا ہے ۔ جن اسمبلی حلقوں پر بی جے پی تیسرے نمبر پر رہی ہے۔ وہاں نئے سرے سے کام کرتے ہوئے بی جے پی کے ووٹ بنک کو مستحکم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے سروے کے مطابق امیدواروں کے انتخاب ، انتخابی حکمت عملی ، مرکزی قائدین کو انتخابی مہم میں مدعو کرنے پارٹی کے انتخابی منشور ، پولنگ بوتھ سطح سے پارٹی کے استحکام کے علاوہ دوسرے امور پر غور کیا گیا ہے ۔۔ ن
