ششور مندر میں مذہبی ذہن سازی ، مسلمانوں میں حریت کے جذبہ کو ختم کرنے کی سازش
حیدرآباد۔ ملک میں راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ کی جانب سے جو منصوبہ تیار کیا گیا ہے اس منصوبہ پر عمل آوری کے علاوہ اس کے ثمرات سے اب آر ایس ایس استفادہ حاصل کرنے لگی ہے ۔ آر ایس ایس کے بانی کیشو بلی رام ہیڈگیوارنے تنظیم کے نظریہ کو فروغ دینے کیلئے جو حکمت عملی تیار کی اس کیلئے انہوں نے تعلیم کا راستہ منتخب کیا اور بچوں کو نظریاتی ‘ تہذیبی اور تنظیمی تعلیم کے ذریعہ ان کی ذہن سازی کے اقدامات کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس فیصلہ کے ساتھ اسکولوں کے قیام کی شروعات کی لیکن گاندھی جی کے قتل کے بعد آر ایس ایس پر عائد کی گئی پابندی کے بعد یہ سلسلہ ترک کردیا گیا لیکن اس کے بعد 1952 میں آر ایس ایس نے ’’شیشو مندر ‘‘ کے نام پر تعلیمی اداروں کی شروعات کی اور ان تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ میں نہ صرف تہذیبی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاتا ہے بلکہ ان کے نظریات کو تنظیم کے نظریہ کے مطابق بنانے کے علاوہ انہیں ملک کی تہذیب و ثقافت سے واقف کروانے کے اقدامات کئے جاتے ہیں ۔ آر ایس ایس کی جانب سے چلائے جانے والے ان شیشو مندر اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی ذہن سازی کچھ اس طرح سے کی جاتی ہے کہ وہ اپنے مذہب کے تئیں ذمہ داریوں کے علاوہ تنظیم کے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی ممکنہ کوشش کرتا ہے۔ آر ایس ایس کی اس منظم حکمت عملی اور ان کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے جو نتائج برآمد ہورہے ہیں وہ ایک متوقع نتیجہ ہے کیونکہ طویل مدتی منصوبہ بندی کے ساتھ جو حکمت عملی تیار کی گئی تھی اس کے ذریعہ آر ایس ایس نے نہ صرف اپنے ذریعہ تعلیم کے فروغ کا کام انجام دینے کی تشہیر کی بلکہ اب آر ایس ایس کو کسی گوشہ سے دہشت گرد تنظیم قراردیا جاتا ہے تو وہ اپنے ان کا ر خیر کے کاموں کو سامنے لانے لگتے ہیں تاکہ ان کے متعلق کوئی بدگمانی پیدا نہ ہوسکے ۔آر ایس ایس نے اپنے پہلے اسکول کے ذریعہ ہی ہندستانی تہذیب و ثقافت پر مبنی نصاب تعلیم کی تیاری کو یقینی بناتے ہوئے کچھ حدتک نظام تعلیم کو زعفرانی کرنے کے علاوہ نئے نصاب کے لزوم کی حکمت عملی تیار کی جاتی رہی ہے اور اس میں آر ایس ایس کو صرف نام حاصل ہورہا ہے اور وہ حکومت کی سرپرست تنظیم کی حیثیت سے ایسے کاموں میں انہیں کوئی رکاوٹ نہیں ہے لیکن مسلمانوں کا جذبہ حریت ختم کرنے کیلئے کی جانے والی سازش ہے اور اس سازش کو سمجھتے ہوئے ملک کے موجودہ حالات کے دوران قیام امن کے علاوہ جن لوگوں کے احباب بیرون ملک پھنسے ہوئے ہیں انہیں واپس لانے کے اقدامات کئے جانا ہے اور آر ایس ایس اس گوشہ میں بھی اپنی من مانی کو یقینی بنانے کی قوت رکھتی ہے کیونکہ آر ایس ایس نے جو شیشو مندر قائم کئے ہیں ان میں خدمات انجام دینے والے بھی آر ایس ایس نظریات کے فروغ میں اپنا کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔آر ایس ایس کی اس عملی کوشش کا نتیجہ کیا حاصل ہوا ہے اس سے تمام ہندستانی واقف ہیں اور ان شیشو مندر اسکولوں میں دی جانے والی تعلیمات کا جائزہ لینے اور انہیں چلانے کے طریقہ کار کو دیکھتے ہوئے اسی طرح سے منظم انداز میںقوم کی ترقی بالخصوص تعلیمی ترقی کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔