آر ایس ایس نوجوانوں کو وطن کی بنیادسے جوڑ رہی ہے: اسرائیل

,

   

Ferty9 Clinic

اسرائیلی سفارت کار نے ناگپور کے ریشم باغ علاقے میں واقع سمرتی مندر کمپلیکس کا دورہ کیا، آر ایس ایس سرگرمیوں کی تعریف

نئی دہلی / ناگپور:/30 ڈسمبر (ایجنسیز) اسرائیل کے قونصل جنرل برائے وسط مغربی ہند یانیو ریواچ نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس ) کی سرگرمیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنظیم نوجوان نسل کو ہندوستان کی جڑوں، تہذیبی وراثت اور قومی تاریخ سے جوڑنے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔انہوں نے منگل کے روز ناگپور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ آر ایس ایس کی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھنا ان کے لیے ایک اہم تجربہ رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی قوم کے مستقبل کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ نوجوان اپنی تہذیب، تاریخ اور ورثے سے جڑے رہیں، اور آر ایس ایس اسی سمت میں منظم انداز سے کام کر رہی ہے۔اسرائیلی سفارت کار نے ناگپور کے ریشم باغ علاقے میں واقع اسمرتی مندر کمپلیکس کا دورہ کیا، جہاں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے بانی ڈاکٹر کیشو بلیرام ہیڈگیوار کی یادگار قائم ہے۔ یہ دورہ تنظیم کے قیام کے سو سال مکمل ہونے کے موقع پر خاص اہمیت رکھتا ہے۔دورے کے بعد یانیو ریواچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ناگپور میں آر ایس ایس ہیڈکوارٹر کا دورہ کرنا اس مقام کا مشاہدہ کرنا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے، کیونکہ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے سنہ 1925 میں آر ایس ایس کے سفر کا آغاز ہوا تھا۔ انہوں نے تنظیم کے بانی ڈاکٹر ہیڈگیوار اور ان کے جانشین ڈاکٹر مادھو سداشیو گولوالکر کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا۔راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قونصل جنرل کو اسمرتی مندر کی تاریخی، ثقافتی اور نظریاتی اہمیت سے آگاہ کیا گیا۔ بیان کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ یہ مقام نہ صرف تنظیم کے بانی کی زندگی اور جدوجہد کی علامت ہے بلکہ ملک بھر میں لاکھوں افراد کے لیے فکری اور نظریاتی تحریک کا مرکز بھی ہے۔آر ایس ایس کے مطابق اسرائیلی سفارت کار نے تنظیم کے سفر، اس کے سماجی اقدامات اور معاشرتی خدمات کو جاننے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ تنظیم نے کہا کہ یہ دورہ نہایت خوشگوار ماحول میں ہوا، جو باہمی احترام اور ثقافتی ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ دور میں ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں نمایاں مضبوطی آئی ہے، اور اسرائیلی سفارت کار کا آر ایس ایس ہیڈکوارٹر کا دورہ انہی بدلتے ہوئے تعلقات کی ایک اہم علامت سمجھا جا رہا ہے۔