آر ایس ایس کے اجلاس میں ملک میں رونما ہوئے اہم واقعات زیر بحث

   

2 ستمبر تک جاری رہنے والے اجلاس میں موہن بھاگوت کے علاوہ دیگر کُل ہند عہدیداران موجود

پالکڑ : راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی تین روزہ آل انڈیا کوآرڈینیشن میٹنگ ہفتہ کو کیرالا کے پالکڑ میں شروع ہوئی جس میں ملک اور دنیا کے موجودہ منظر نامے ، اہم واقعات اور سماجی تبدیلی کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ اجلاس 2 ستمبر تک جاری رہے گا۔ اس آل انڈیا کوآرڈینیشن میٹنگ میں آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک ڈاکٹر موہن بھاگوت، سرکاریہ واہ دتاتریہ ہوسبالے سمیت سنگھ کے تمام چھ شریک سرکاریہ واہ اور دیگر آل انڈیا عہدیدار موجود ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ یہ تین روزہ آل انڈیا اجلاس عام طور پر سال میں ایک بار منعقد کیا جاتا ہے ۔ میٹنگ کے آغاز میں وائناڈ میں حالیہ لینڈ سلائیڈنگ اور سویم سیوکوں کے ذریعہ کئے گئے امدادی اور خدماتی کاموں کے بارے میں تمام مندوبین کو معلومات فراہم کی گئیں۔ اجلاس میں مختلف تنظیموں کے کارکنان اپنے کام کے بارے میں معلومات اور تجربات کی درخواست اور تبادلہ کریں گے ۔ اس کے علاوہ قومی دلچسپی کے مختلف موضوعات کے تناظر میں موجودہ صورتحال، حالیہ اہم واقعات اور سماجی تبدیلی کی دیگر جہتوں، منصوبوں کے تناظر میں میٹنگ میں بات چیت ہوگی۔ تمام تنظیمیں مختلف موضوعات پر باہمی تعاون اور ہم آہنگی کو مزید بڑھانے کے لیے ضروری اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کریں گی۔ میٹنگ میں راشٹر سیویکا سمیتی کی چیف سنچالیکا شانتکا، چیف کاریہ واہیکا سیتا انادنم، ونواسی کلیان آشرم کے صدر ستیندر سنگھ، سابق سینک سیوا پریشد کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) وی کے چترویدی، اکھل بھارتیہ گراہک پنچایت کے صدر نارائن بھائی شاہ، وشو ہندو پریشد کے صدر آلوک کمار اور جنرل سکریٹری بجرنگ باگرا، اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے تنظیمی وزیر آشیش چوہان، بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر جگت پرکاش نڈا اور جنرل سکریٹری تنظیم بی ایل سنتوش، ودیا بھارتی کے صدر رام کرشن راؤ، بھارتیہ مزدور سنگھ کے صدر ہیرنمیا پانڈیا، آروگیہ بھارتی کے صدر ڈاکٹر راکیش پنڈت سمیت 32 مختلف سنگھ سے متاثر تنظیموں کے قومی صدور، تنظیم کے وزراء اور اہم عہدیداروں اورتمام تنظیموں کی خواتین نمائندوں کے ساتھ تقریباً 300 کارکن شامل ہوئے ہیں۔