آر ایس ایس کے پاس چندوں کی رقم کا کوئی حساب نہیں

   

دیگر ادارے ٹیکس ادا کرتے ہیں تو زعفرانی تنظیم کو بھی جوابدہ ہونا ہوگا: پریانک کھرگے

بنگلورو ۔ 16 فروری (ایجنسیز) ریاست کرناٹک کے وزیر اور کانگریس رہنما پریانک کھرگے نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) تنظیم کی مالی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ یہ تنظیم ٹیکس ادا نہیں کرتی۔ میڈیا کے مطابق گزشتہ روز بنگلورو میں ایک نجی تقریب سے خطاب کے دوران پریانک کھرگے نے انکشاف کیا کہ آر ایس ایس پر چندوں کے نام پر جمع ہونے والی رقوم کے ذرائع اور خرچ کی کوئی واضح معلومات موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس سے منسلک تقریباً 2,500 تنظیموں کے ذریعہ ہندوستان سمیت امریکہ اور برطانیہ سے بھی فنڈز آ رہے ہیں جو منی لانڈرنگ کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ کھرگے نے کہا کہ وہ ہم سے کہتے ہیں کہ ہم اچھے شہری بنیں اور انکم ٹیکس ادا کریں، لیکن خود ٹیکس سے آزاد رہنا چاہتے ہیں، یہ کیسے ممکن ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آر ایس ایس کو آئین اور قانون کے دائرے میں لا کر رجسٹر کیا جائے اور کوئی بھی تنظیم قانون سے بالاتر نہ ہو۔ ہندوستانی میڈیا کے مطابق پریانک کھرگے کا یہ بیان آر ایس ایس تنظیم کے سربراہ موہن بھگوت کے اس دعوے کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آر ایس ایس افراد کا ایک گروپ ہے، اس لیے اس کی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں۔ پریانک کھرگے نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب دیگر ادارے رجسٹرڈ ہیں اور ٹیکس ادا کرتے ہیں تو آر ایس ایس کو بھی جوابدہ ہونا ہوئگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال کرناٹک میں کانگریس حکومت اور آر ایس ایس کے درمیان تنازع نے اس وقت جنم لیا تھا جب سرکاری اسکولوں اور عوامی مقامات پر آر ایس ایس کی سرگرمیوں پر اعتراض اٹھایا گیا تھا۔