آر ایس ایس ۔ بی جے پی کو غیر ملکی ایجنسیوں سے خفیہ مدد:کانگریس

,

   

نئی دہلی: کانگریس پارٹی نے آج دعویٰ کیا کہ اس کے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ملک میں جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے اور آئینی اداروں کو تباہ کرنے کیلئے بیرونی ایجنسیوں کی خفیہ مدد لے رہے ہیں۔پارٹی نے کہا کہ مودی حکومت اس وقت ہندوستان میں انتخابات پر اثر انداز ہونے کیلئے امریکی سرکاری ایجنسی یو ایس ایڈ کے فنڈز فراہم کرنے کے معاملے پر جو پروپیگنڈہ کر رہی ہے وہ دراصل حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے ، کیونکہ خود حکمراں جماعت سے جڑے لوگ سرکاری ایجنسیوں سے مدد لیتے رہے ہیں۔کانگریس کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیڑا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کانگریس پہلے ہی ہندوستان میں یو ایس ایڈ کی فنڈنگ سے متعلق وائٹ پیپر کا مطالبہ کر چکی ہے ، یہ واضح ہو جائے کہ ہم امدادی میکانزم جیسے گلوبل پارٹنرشپ ڈیولپمنٹ ایجنسیز، یو ایس ایڈ کو بے ایمان نہیں سمجھتے ۔ کھیڑا نے کہا کہ یہ بی جے پی ہی تھی جس نے سب سے پہلے ‘ڈیپ اسٹیٹ’ کی کہانی شروع کی اور یو ایس ایڈ کو بدنام کرنا شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ تاہم، ہمارے پاس کافی ثبوت ہیں کہ بی جے پی ۔ آر ایس ایس ہندوستانی جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے اور ہمارے آئین کو تباہ کرنے کیلئے غیر ملکی ایجنسیوں سے خفیہ مدد لے رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکہ کے آخری دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر ‘جوابی ٹیرف’ لگانے اور برکس گروپ کو ختم کرنے کی بات کر رہے تھے تو مودی مسکرا رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح ہمارے وزیر اعظم امریکی صدر کی دھمکیاں سنتے رہے اور خاموشی سے ملک واپس آ گئے اور اب مودی سرکار کہہ رہی ہے کہ اسے غیر مستحکم کرنے کیلئے امریکہ سے پیسہ لیا گیا ہے ۔صدر ٹرمپ نے کاروباری شخصیت ایلون مسک کی قیادت میں وہاں تشکیل دیے گئے محکمہ انتظامی کارکردگی کی سفارش پر ہندوستان میں ووٹنگ فیصد بڑھانے کے نام پر یو ایس ایڈ کی طرف سے دی گئی 21 ملین ڈالر (تقریباً 170 کروڑ روپے ) کی امداد کو منسوخ کر دیا ہے ۔کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ پچھلے ایک ہفتے سے یہ کہانی چل رہی ہے کہ یو ایس ایڈ نے یہ رقم مودی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کیلئے دی تھی۔ اس قسم کے پروپیگنڈے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ اگر 2012 میں یو پی اے کی حکومت کے دور میں امریکہ سے پیسہ آیا تھا تو کیا بی جے پی نے 2014 کا الیکشن اسی پیسے سے جیتا تھا؟انہوں نے کہا کہ ہم یو ایس ایڈ یا فنڈنگ ایجنسی کے خلاف نہیں ہیں۔ ملک میں فنڈنگ کیلئے قوانین ہیں جس کے تحت بی جے پی سے وابستہ این جی اوز بھی فنڈ لیتے ہیں لیکن جان بوجھ کر صرف کانگریس کا نام لینا غلط ہے ۔