حیدرآباد ۔ یکم ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : ریاست میں اب موٹر گاڑی والوں کو آر ٹی اے دفاتر میں ان کے کام کروانے پہلے ٹریفک چالانات ادا کرنا ہوگا ۔ حکومت نے عہدیداروں سے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ گاڑی مالکان پہلے ان کے چالانات ادا کردیں ۔ عہدیداروں کے مطابق چونکہ موٹر گاڑی والوں کی جانب سے برسوں سے زیر التواء ٹریفک چالانات کی ادائیگی نہیں کی جارہی ہے ۔ اس لیے اب آر ٹی اے دفاتر میں کوئی کام کروانے سے پہلے ان سے چالانات ادا کرنے کے لیے کہا جارہا ہے ۔ ایک سینئیر عہدیدار کے مطابق آر ٹی اے دفاتر کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ سکنڈ ہینڈ گاڑیاں خریدنے والے گاڑی مالکان گاڑی کا رجسٹریشن ان کے نام پر ٹرانسفر نہیں کروارہے ہیں اور ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں ۔ ٹریفک خلاف ورزی سے متعلق چالانات گاڑی فروخت کرنے والوں کو وصول ہورہے ہیں جس کی وجہ ان کے لیے مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔ گاڑی کی ملکیت کی منتقلی کے ساتھ ، گاڑیوں پر قرض کی تکمیل کی صورت میں موٹر سٹس فٹ نیس ٹسٹس اور دیگر کے دوران ان کی گاڑی کے ہائپوتھکیشن ٹرانسفر کے لیے آتے ہیں ۔ آر ٹی اے دفاتر نے زیر التواء چالانات پر ایک علحدہ کالم کو شامل کیا ہے ۔ کام اسی وقت مکمل ہوں گے اگر کوئی زیر التواء ٹریفک چالانات نہ ہوں ۔ آر ٹی اے دفاتر میں 2 مارچ سے اس کا آغاز ہوگا ۔ اس عہدیدار نے کہا کہ ریاستی حکومت نے چالانات پر ڈسکاونٹ کی سہولت فراہم کی ہے ۔ گاڑی مالکان اس سے استفادہ کرسکتے ہیں اور آر ٹی اے دفاتر میں کوئی کام کروانے کے لیے آنے سے قبل ان کے بقایہ جات کی ادائیگی کرسکتے ہیں ۔ تلنگانہ آٹو اینڈ موٹر ویلفیر یونین جنرل سکریٹری ایم دیانند نے اس اقدام کو حکام کی جانب سے ایک قابل خیر مقدم قرار دیا ہے ۔ کئی گاڑی مالکین جنہوں نے ان کی گاڑیوں کو فروخت کیا ہے ۔ اس لیے مسائل و مشکلات کا شکار ہورہے ہیں کیوں کہ خریدنے والے افراد ان کی گاڑیوں کو ان کے نام پر ٹرانسفر نہیں کروا رہے ہیں اور اس طرح انہیں ہزاروں روپئے کے چالانات موصول ہورہے ہیں ۔ انہوں نے آر ٹی اے عہدیداروں پر زور دیا کہ اس طرح کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔۔