آر ٹی اے کی جانب سے اسمارٹ کارڈس کی اجرائی میں تاخیر لوگوں کیلئے تکلیف دہ

   

حیدرآباد ۔ 22 فبروری (سیاست نیوز) وہیکل رجسٹریشن سرٹیفکیٹس جاری کرنے کیلئے اسمارٹ کارڈس کی اجرائی میں تاخیر سے پورے وہیکل رجسٹریشن عمل میں پھر ابتری اور بدنظمی پیدا ہوگئی ہے۔ حیدرآباد اور رنگاریڈی ڈسٹرکٹ میں ہر آر ٹی اے آفس میں ایک دن میں 300 سے زائد کارڈس پرنٹ کرنے اور انہیں 7 دن کے اندر اسپیڈ پوسٹ کے ذریعہ گاڑی کے مالکین کو روانہ کرنے کا انتظام کیا ہے۔ تاہم درخواست گذاروں کو اب اس میں تاخیر کی وجہ مہینوں انتظار کرنے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے۔ ترملگیری کے ساکن جی سائی ناتھ نے کہا کہ ’’ترملگیری روڈ ٹرانسپورٹ اتھاریٹی (آر ٹی اے) آفس پر مجھے میری گاڑی کا رجسٹریشن کرائے تقریباً ایک مہینہ ہورہا ہے لیکن ابھی تک مجھے اسمارٹ کارڈ موصول نہیں ہوا جسے عہدیداروں کو میرے پتہ پر روانہ کرنا ہوتا ہے۔ میرے لئے یہ بات ناقابل فہم ہیکہ جب ہم رجسٹریشن کے دوران اسمارٹ کارڈ کیلئے فیس اور پوسٹل فیس ادا کرتے ہیں تو پھر اس میں تاخیر کیوں ہوتی ہے‘‘۔ سائی ناتھ نے کہا کہ جب وہ حال میں ان کے اسمارٹ کارڈ کے موقف کی جانچ کیلئے آر ٹی اے آفس گئے تو انہوں نے دیکھا کہ بعض بروکرس آفس کے باہر انتظار کررہے تھے انہوں نے کہا کہ اگر میں اضافی رقم ادا کروں تو اسی دن کارڈ حاصل کرسکتا ہوں۔ آر ٹی اے آفس پر بروکرس اس تاخیر کا فائدہ اٹھارہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب عہدیداروں کیلئے ضروری ہیکہ اس مسئلہ کا ایک مستقل حل نکالیں۔ ایک اور درخواست گذار محمد عمران نے کہاکہ ’’میری نئی کار کے رجسٹریشن کیلئے میری درخواست کو جنوری کے پہلے ہفتہ میں منظور کیا گیا لیکن مجھے ابھی تک اسمارٹ کارڈ نہیں ملا۔ اگر وہ اسے وقت پر روانہ نہیں کرسکتے ہیں تو پھر وہ ہم سے کارڈ کیلئے یپسے کیوں وصول کرتے ہیں‘‘۔ گذشتہ سال جولائی میں وزیر ٹرانسپورٹ کی جانب سے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اس مسئلہ پر توجہ دی گئی تھی۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے ڈسٹرکٹ آفیسرس سے کہا تھا کہ پرنٹنگ کارڈس اور پرنٹرس کے کنزیومیبلس کا تین دن میں انتظام کریں اور زیرالتواء کیسیس کو 15 دن کے اندر کلیئر کریں۔ تاہم زیرالتواء کیسیس کو کلیئر کرنے کا حل گذشتہ سال ایک عارضی حل بن گیا۔ تلنگانہ آٹو اینڈ موٹر وہیکل یونین کے جنرل سکریٹری ایم دیانند نے کہا کہ ’’پہلے، پرنٹنگ مشینس کام نہیں کررہے تھا اور اب تاخیر اس لئے ہورہی ہے کیونکہ ان کارڈس کو پرنٹ کرنے کیلئے خام میٹریئل سربراہ کرنے والے کنٹراکٹرس کو بروقت رقم ادا نہیں کی جارہی ہے۔ اس مسئلہ کا ایک مستقل حل تلاش کرنے کیلئے ایک کمیٹی قائم کی جانی چاہئے‘‘۔ ربط کرنے پر، سی رمیش، جوائنٹ ٹرانسپورٹ کمشنر (آئی ٹی)، آر ٹی اے نے کہاکہ ’’ہم اس مسئلہ کو حل کرنے کے سلسلہ میں کام کررہے ہیں اور اسے جلد حل کیا جائے گا۔ اب ہم لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ موبائیل اپلیکیشن پر ڈاکومنٹس ڈاؤن لوڈ کریں‘‘۔